حدیث نمبر: 2549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرْنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت میں بیٹھے تھے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم سب میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو خوب یاد رکھنے والا ہوں۔ میں نے دیکھا آپ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دیتے تھے۔ پھر اپنی پیٹھ جھکا دیتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 2550
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا صَلَاتَهُ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ " إِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلَا صَافِحٍ بِخَدِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو عامری سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی مجلس میں تھا، وہ آپس میں آپ ﷺ کی نماز کا تذکرہ کر رہے تھے، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما لیتے اور انگلیوں کے درمیان فاصلہ رکھتے، پھر اپنی کمر کو جھکاتے اور نہ تو زیادہ جھکاتے اور نہ ہی اپنے رخساروں کو ظاہر کرتے، یعنی زیادہ اوپر نہ اٹھاتے۔
حدیث نمبر: 2551
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ابو حمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم (ایک جگہ) جمع تھے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کی نماز کا ذکر کیا، ابو حمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں تم سب میں نبی کریم ﷺ کی نماز کو زیادہ جاننے والا ہوں“، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر فرمایا کہ آپ ﷺ نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا گویا کہ آپ گھٹنوں کو پکڑے ہوئے تھے، اپنی انگلیوں کو کھول لیا اور بازو اپنے پہلو سے دور رکھے۔
حدیث نمبر: 2552
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: " وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کو تکبیر کے ساتھ شروع کرتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ زیادہ اونچا رکھتے اور نہ زیادہ نیچا رکھتے، بلکہ سیدھا رکھتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 2553
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أُرَاهُ رَفَعَهُ شَكَّ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ، وَفِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَسْلِيمَةٌ وَلَا صَلَاةَ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَغَيْرِهَا، فَرِيضَةً أَوْ غَيْرَ فَرِيضَةٍ، وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَدْبَحْ تَدْبِيحَ الْحِمَارِ، وَلْيُقِمْ صُلْبَهُ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْيَمُدَّ صُلْبَهُ، فَإِنَّ الْإِنْسَانَ يَسْجُدُ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ جَبْهَتِهِ، وَكَفَّيْهِ، وَرُكْبَتَيْهِ، وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ، وَإِذَا جَلَسَ فَلْيَنْصُبْ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَلْيَخْفِضْ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وضو نماز کی چابی ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر (تحریمہ) ہے اور اس سے حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے اور ہر دو رکعت میں سلام (پھیرنا ہے) اور کوئی فرض نماز یا نفل نماز ایسی نہیں جس میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت نہ پڑھی جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو گدھے کی طرح کوہان نہ بنائے (یعنی رکوع میں کمر پھیلا کر اور سر جھکا کر پیٹھ سے نیچے نہ کرے) بلکہ اپنی کمر سیدھی رکھے اور جب سجدہ کرے تب بھی اپنی کمر سیدھی رکھے، بیشک انسان سات ہڈیوں پر سجدہ کرتا ہے: اپنی پیشانی پر، دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور اپنے پاؤں کے اگلے حصے (انگلیوں) پر اور جب بیٹھے تو اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھے اور بائیں پاؤں کو بچھا لے۔“