السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القول في الركوع باب: رکوع میں پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقُلْتُ يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى، فَقُلْتُ يَخْتِمُهَا، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَآلَ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَيَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ " فَقَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ يَقُولُ: " فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ وَتَعْظِيمٌ إِلَّا ذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔ آپ ﷺ نے سورة البقرة شروع کردی۔ میں نے (دل میں) سوچا شاید آپ (صرف) سو آیتیں پڑھیں گے، پھر رکوع فرمائیں گے، لیکن آپ ﷺ مزید پڑھتے چلے گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ آپ سورة مکمل کرکے رکوع کریں گے لیکن آپ پڑھتے رہے، حتیٰ کہ آپ نے سورة النساء اور آل عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ ﷺ نے قیام کے برابر (لمبا) رکوع کیا اور تسبیح پڑھتے رہے۔ پھر اپنا سر اٹھایا تو فرمایا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے پروردگار اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ پھر آپ ﷺ نے اسی طرح لمبا قومہ کیا۔ پھر سجدہ کیا تو سجدے میں بھی دیر تک «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو بہت بلند ہے“ پڑھتے رہے۔ کوئی بھی خوف یا تعظیم کی آیت پڑھتے تو اللہ کو یاد کرتے۔