السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: لَمْ يَثْبُتْ عِنْدِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ، وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدِي حَدِيثُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ ذَكَرَهُ عُبَيْدُ اللهِ، وَمَالِكٌ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ - وَأُرَاهُ وَاسِعًا، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ لِكَثْرَةِ الْأَحَادِيثِ وَجَوْدَةِ الْأَسَانِيدِ ".سفیان بن عبدالملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ”نبی ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا پھر دوبارہ نہیں کیا“ ثابت نہیں ہے اور میرے پاس تو رفع یدین کی حدیث ثابت ہے جس کو عبیداللہ، مالک، معمر اور ابن ابی حفصہ نے زہری سے، انہوں نے سالم کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور میں اس میں وسعت سمجھتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہنے لگے کہ احادیث کی کثرت اور ان کی اسانید کے جید ہونے کی وجہ سے میرا یہی خیال ہے، گویا میں نبی ﷺ کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں۔