السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ " قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، يَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ ⦗١١٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ فَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ عَلَى مَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ فَقَدْ يَكُونُ عَادَ لِفَرْعِهِمَا فَلَمْ يَحْكِهِ، وَإِنْ كَانَ عَلَى مَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ فَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ كَمَا كَانَ التَّطْبِيقُ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ سُنَّتْ بَعْدَهُ السُّنَنُ وَشُرِّعَتْ بِهَذِهِ الشَّرَائِعُ حَفِظَهَا مَنْ حَفِظَهَا وَأَدَّاهَا فَوَجَبَ الْمَصِيرُ إِلَيْهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز سکھائی۔ آپ نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا۔ پھر جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اپنے گھٹنوں کے درمیان میں لٹکا دیا۔“ علقمہ کہتے ہیں: جب یہ بات سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”میرے بھائی نے سچ کہا، پہلے ہم بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا (یعنی ان کو اوپر سے مضبوطی سے پکڑنے کا)۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ اگر حدیث اس طرح ہو جس طرح عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ نے روایت کی ہے تو اس میں رفع یدین دوبارہ کرنے کو بیان نہیں کیا گیا اور اگر اس طرح ہو جیسے ثوری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے تو ابن ادریس رحمہ اللہ کی حدیث سے معلوم ہے کہ یہ کام اسلام کے ابتدائی دور میں تھا جیسا کہ ہاتھ گھٹنوں کے درمیان لٹکانا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا۔ پھر اس کے بعد طریقے بدلتے رہے اور شریعت ارتقا کی منازل طے کرتی رہی (یعنی بتدریج احکام میں تبدیلی آتی رہی)۔ جس نے ان کو یاد کرنا تھا یاد کر لیا اور ان کو آگے پہنچایا، اب ان پر عمل کرنا ضروری ہو گیا۔