السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُضَعِّفُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ: وَمِمَّا يُحَقِّقُ قَوْلَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ أَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ وَزُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ وَهُشَيْمًا وَغَيْرَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَجِيئُوا بِهَا إِنَّمَا جَاءَ بِهَا مَنْ سَمِعَ مِنْهُ بِآخِرَةٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يُؤَكِّدُ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ هَؤُلَاءِ.(ا) عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔“
(ب) نیز فرمایا کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو سنا، وہ یزید بن ابی زیاد کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔
(ب) ابوسعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے قول «إِنَّهُمْ لَقَّنُوهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ» ”انہوں نے اسے یہ کلمہ سکھایا ہے“ کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ سفیان ثوری، زہیر بن معاویہ، ہشیم اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم نے اس قول کو نہیں کیا۔ یہ قول صرف اسی نے کیا ہے جس نے ان کے بعد سنا۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل علم کا موقف بھی اس کی تائید کرتا ہے۔