السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ " قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَلَقِيتُ يَزِيدَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهَذَا، وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ ⦗١١١⦘ لَا يَعُودُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا سَمِعْتُ يَزِيدَ يُحَدِّثُهُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ هَكَذَا وَيَزِيدُ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَهَبَ سُفْيَانُ إِلَى أَنْ يُغَلِّطَ يَزِيدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ: كَأَنَّهُ لُقِّنَ هَذَا الْحَرْفَ فَتَلَقَّنَهُ وَلَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ سُفْيَانُ يَزِيدَ بِالْحِفْظِ كَذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، بِمَكَّةَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ وَقَالَ سُفْيَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ فَيَقُولُ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ، وَقَالَ لِي أَصْحَابُنَا: إِنَّ حِفْظَهُ قَدْ تَغَيَّرَ، أَوْ قَالُوا: قَدْ سَاءَ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قُلْنَا لِقَائِلٍ: هَذَا يَعْنِي لِلْمُحْتَجِّ بِهَذَا، إِنَّمَا رَوَاهُ يَزِيدُ، وَيَزِيدُ يَزِيدُ.(ا) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔“ سفیان کہتے ہیں: پھر میں کوفہ آیا تو (اپنے استاد) یزید سے ملا، میں نے انہیں یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور انہوں نے اس میں یہ اضافہ بھی کیا کہ پھر دوبارہ یہ کام (رفع یدین) ساری نماز میں نہیں کیا۔ میں سمجھا کہ انہوں نے اس کی تلقین کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یزید کو یہ حدیث پہلے اس طرح بیان کرتے سنا، پھر دوبارہ انہوں نے اس میں «ثُمَّ يَعُوْدُ» کے الفاظ کا اضافہ کیا۔
(ب) امام شافعی اور سفیان رحمہما اللہ اس طرف گئے ہیں کہ یزید کو اس حدیث میں غلطی پر سمجھیں؛ کیونکہ انہیں اس حرف کی تلقین کی گئی تھی یعنی سمجھایا گیا تھا، لیکن انہوں نے اسے سیکھ کر ذہن نشین کر لیا۔
(ج) اسی طرح ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے، اس میں «ثُمَّ لَا يَعُوْدُ» کے الفاظ نہیں ملتے۔
(د) سفیان کہتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کرتے سنا تو اس میں وہ «ثُمَّ لَا يَعُوْدُ» کہہ رہے تھے، میں نے جان لیا کہ انہوں نے ان کو سکھا دیا ہے۔
(ہ) اور مجھے میرے ساتھیوں (ہم مسلک لوگوں) نے کہا کہ یزید کا حافظہ خراب ہو گیا تھا یا انہوں نے ”قَدْ سَاءَ“ کا لفظ بولا۔
(و) حمیدی کہتے ہیں: جو اس حدیث سے دلیل پکڑتا ہے ہم اس کو اتنا ہی کہیں گے کہ اس روایت کو یزید نے روایت کیا ہے اور یزید اضافہ کرتا رہتا ہے۔