السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن ما جمعته مصاحف الصحابة رضي الله عنهم كله قرآن، وبسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور سوى سورة براءة من جملته باب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " نَزَلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ " فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ إِلَى آخِرِهَا} " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَعَلَى لَفْظِهِ أَيْضًا رَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ آنِفًا، وَالْمَشْهُورُ فِيمَا بَيْنَ أَهْلِ التَّفْسِيرِ وَالْمَغَازِي أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ مَكِّيَّةٌ، وَلَفْظُ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ لَا يُخَالِفُ قَوْلَهُمْ فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَوْلَى.(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان جلوہ افروز تھے کہ اچانک آپ پر اونگھ طاری ہو گئی، پھر (کچھ دیر بعد) آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اٹھایا تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ آپ نے فرمایا: ”ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ ﷺ پڑھنے لگے۔ ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الکوثر: 1]۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ ]
(ب) انہی الفاظ سے اور بھی کئی راویوں نے اس کو نقل کیا ہے اور بعض راویوں نے «آنفًا» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ اس بارے میں اہل تفسیر اور مغازی کے ہاں مشہور قول یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور علی بن حجر کی حدیث کے الفاظ ان کے خلاف نہیں ہیں، شاید یہ بہتر ہو۔