السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن ما جمعته مصاحف الصحابة رضي الله عنهم كله قرآن، وبسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور سوى سورة براءة من جملته باب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٦٤⦘ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ بِخِسْرُوجَرَدْ مِنْ أُصُولِهِ نا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: ٢] ثُمَّ قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ، تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي فَيَخْتَلِجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي " فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ ".سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ پر (غشی) ہلکی اونگھ طاری ہوگئی۔ (اونگھ کے بعد) آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو پڑھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [سورة الكوثر: 1-3] ”شروع اللہ رحمن ورحیم کے نام کے ساتھ بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کی۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے، بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام و نشاں ہوگا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک نہر ہے جس کا جنت میں میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اس کے برتن (گلاس وغیرہ) ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، اس پر میری امت آئے گی، ان میں سے بعض کو روکا جائے گا تو میں کہوں گا: اے اللہ! یہ تو میرا امتی ہے۔ جواباً کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد اس نے دین میں کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں۔“