حدیث نمبر: 230
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ أَبِي حَسَنٍ، سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ ثَلَاثِ غُرَفٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدِهِ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِثَلَاثِ غَرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ غَرَفَاتٍ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) عمرو بن یحییٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن ابی حسن کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے بارے میں پوچھا: انہوں نے پانی کا برتن منگوایا، پھر ان کے لیے وضو کیا، برتن سے اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر اپنے ہاتھوں کو دھویا، اس کے بعد اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور تین مرتبہ ناک جھاڑا اور یہ پانی کے تین چلوؤں سے کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے بازوؤں کو دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لے آئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا۔
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔
(ج) ایک روایت میں ہے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 230
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»