السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الجمع بين المضمضة والاستنشاق باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو جمع کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح. قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالُوا: أنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قُلْنَا لَهُ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ، فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهُمَا فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ⦗٨٤⦘ كِلَاهُمَا عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ كُلَّ مَرَّةٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا بِثَلَاثِ غَرَفَاتٍ بِدَلِيلِ.سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہما بنی نجار قبیلے سے ہیں اور صحابی رسول ہیں، ہم نے ان سے کہا: ”ہمارے لیے نبی ﷺ جیسا وضو کریں۔“ انہوں نے پانی منگوایا اور اپنی ہتھیلیوں پر ڈالا، اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، ایک ہاتھ سے ایسا تین مرتبہ کرتے تھے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے ہاتھوں کو دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ایک مرتبہ ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ اس کے بعد اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کا وضو اس طرح تھا۔“
(ب) عمرو بن یحییٰ کہتے ہیں: پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالا۔ (واللہ اعلم) یعنی ہر مرتبہ کلی اور ناک میں پانی ایک ہی چلو سے ڈالا، پھر یہ تین مرتبہ کیا تین چلوؤں کے ساتھ۔