السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يكبر الإمام حتى يأمر بتسوية الصفوف خلفه باب: امام اس وقت تک تکبیر نہ کہے جب تک اپنے پیچھے صفیں سیدھی کرنے کا حکم نہ دے دے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2292
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ " يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، فَإِذَا جَاءُوهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ كَبَّرَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صفوں کو برابر کرنے کا حکم دیتے تھے (یعنی کچھ آدمیوں کی ذمہ داری لگا دیتے جو صفیں سیدھی کریں)، جب وہ لوگ آ کر خبر دیتے کہ صفیں سیدھی ہو گئی ہیں تب آپ تکبیر کہتے۔