السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يكبر الإمام حتى يأمر بتسوية الصفوف خلفه باب: امام اس وقت تک تکبیر نہ کہے جب تک اپنے پیچھے صفیں سیدھی کرنے کا حکم نہ دے دے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2293
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنَا أُكَلِّمُهُ فِي أَنْ يَفْرِضَ لِي فَلَمْ أَزَلْ أُكَلِّمُهُ، وَهُوَ يُسَوِّي الْحَصْبَاءَ بِنَعْلَيْهِ، حَتَّى جَاءَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدِ اسْتَوَتْ، فَقَالَ لِي: " اسْتَوِ فِي الصَّفِّ " ثُمَّ كَبَّرَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوسہیل بن مالک اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اقامت کہہ دی گئی جب کہ میں ان سے اپنے حصے کے بارے میں باتیں کر رہا تھا، میں ان سے مسلسل باتیں کرتا رہا اور وہ اپنے پاؤں سے چٹائی کو سیدھا کر رہے تھے، حتیٰ کہ آپ کے پاس کچھ لوگ آئے تو آپ نے ان کو صفوں کی درستگی پر مامور کیا۔ پھر انہوں نے آکر خبر دی کہ صفیں درست ہو چکی ہیں تو آپ نے مجھے فرمایا: صف میں برابر ہو جاؤ، پھر آپ نے تکبیر کہی۔