السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يكبر الإمام حتى يأمر بتسوية الصفوف خلفه باب: امام اس وقت تک تکبیر نہ کہے جب تک اپنے پیچھے صفیں سیدھی کرنے کا حکم نہ دے دے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2291
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ثنا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِذَا اسْتَوَيْنَا كَبَّرَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت سماک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو برابر فرمایا کرتے، جب ہم سیدھے ہو جاتے تب آپ ﷺ تکبیر کہتے۔