السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يكبر الإمام حتى يأمر بتسوية الصفوف خلفه باب: امام اس وقت تک تکبیر نہ کہے جب تک اپنے پیچھے صفیں سیدھی کرنے کا حکم نہ دے دے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2290
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرٍ ثنا ⦗٣٤⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا، حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ، حَتَّى يَرَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا، فَقَامَ حَتَّى كَادَ يُكَبِّرُ، فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ: " عِبَادَ اللهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب سے روایت ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو درست فرمایا کرتے تھے، گویا کہ آپ اس کے ذریعے تیر سیدھا کر رہے تھے، حتیٰ کہ یقین کرلیتے کہ ہم نے آپ سے سیکھ لیا ہے۔ پھر ایک دن رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ تکبیر کہنے ہی لگے تھے کہ اچانک ایک شخص پر آپ کی نظر پڑی، اس کا سینہ صف سے آگے نکلا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو ضرور سیدھا رکھو وگرنہ پروردگار تمہارے منہ ٹیڑھے کر دے گا۔“