السنن الكبرى للبيهقي
كتاب عتق أمهات الأولاد— امہات الاولاد کی آزادی کا بیان
باب: : الرجل ينكح الأمة فتلد له ثم يملكها. باب: وہ شخص جو کسی لونڈی سے نکاح کرے، اس سے اس کا بچہ پیدا ہو پھر وہ اس (لونڈی) کا مالک بن جائے۔
حدیث نمبر: 21805
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى شُرَيْحٍ رَجُلٌ تَزَوَّجَ أَمَةً، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ اشْتَرَاهَا، فَرَفَعَهُمْ شُرَيْحٌ إِلَى عُبَيْدَةَ، فَقَالَ عُبَيْدَةُ: " إِنَّمَا تَعْتِقُ أُمُّ الْوَلَدِ إِذَا وَلَدَتْهُمْ أَحْرَارًا، فَإِذَا وَلَدَتْهُمْ مَمْلُوكِينَ فَإِنَّهَا لَا تَعْتِقُ ".حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا فیصلہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا، اس نے اپنی لونڈی سے شادی کی اور اولاد بھی ہوئی۔ پھر اس نے اس کو فروخت کر دیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے عبیدہ رحمہ اللہ کی طرف فیصلہ منتقل کر دیا، تو عبیدہ رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا کہ ام ولد آزاد ہے جب اس نے آزاد کی اولاد کو جنم دیا ہو، اور جب وہ غلام کی اولاد کو جنم دے تو وہ آزاد نہ ہوگی۔