السنن الكبرى للبيهقي
كتاب عتق أمهات الأولاد— امہات الاولاد کی آزادی کا بیان
باب: : الرجل ينكح الأمة فتلد له ثم يملكها. باب: وہ شخص جو کسی لونڈی سے نکاح کرے، اس سے اس کا بچہ پیدا ہو پھر وہ اس (لونڈی) کا مالک بن جائے۔
حدیث نمبر: 21804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَذَكَرَ قِصَّةً، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعْرِفُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قَالَ: " أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ لِسَيِّدِهَا فَهِيَ لَهُ مُتْعَةٌ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ بَعْدهِ، وَمَنْ وَطِئَ وَلِيدَةً فَضَيَّعَهَا، فَالْوَلَدُ لَهُ وَالضَّيْعَةُ عَلَيْهِ "..حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ نے قصہ ذکر کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا تھا: ”وہ لونڈی جو اپنے آقا کی اولاد کو جنم دے تو وہ (آقا) اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اور جب وہ فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔ جس نے لونڈی سے مجامعت کی اور اس کو حاملہ کر دیا تو اولاد اسی کی ہوگی اور نقصان بھی اسی کا ہوگا۔“