کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وہ شخص جو کسی لونڈی سے نکاح کرے، اس سے اس کا بچہ پیدا ہو پھر وہ اس (لونڈی) کا مالک بن جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَذَكَرَ قِصَّةً، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعْرِفُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قَالَ: " أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ لِسَيِّدِهَا فَهِيَ لَهُ مُتْعَةٌ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ بَعْدهِ، وَمَنْ وَطِئَ وَلِيدَةً فَضَيَّعَهَا، فَالْوَلَدُ لَهُ وَالضَّيْعَةُ عَلَيْهِ "..
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ نے قصہ ذکر کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا تھا: ”وہ لونڈی جو اپنے آقا کی اولاد کو جنم دے تو وہ (آقا) اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اور جب وہ فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔ جس نے لونڈی سے مجامعت کی پھر اس کو (بے نگرانی) چھوڑ دیا تو اولاد اسی کی ہوگی اور نقصان بھی اسی پر ہوگا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى شُرَيْحٍ رَجُلٌ تَزَوَّجَ أَمَةً، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ اشْتَرَاهَا، فَرَفَعَهُمْ شُرَيْحٌ إِلَى عُبَيْدَةَ، فَقَالَ عُبَيْدَةُ: " إِنَّمَا تَعْتِقُ أُمُّ الْوَلَدِ إِذَا وَلَدَتْهُمْ أَحْرَارًا، فَإِذَا وَلَدَتْهُمْ مَمْلُوكِينَ فَإِنَّهَا لَا تَعْتِقُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا فیصلہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا، اس نے ایک لونڈی سے شادی کی اور اولاد بھی ہوئی۔ پھر اس نے اس کو خرید لیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے عبیدہ رحمہ اللہ کی طرف فیصلہ منتقل کر دیا، تو عبیدہ رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا کہ ام ولد تب آزاد ہوتی ہے جب اس نے اولاد کو آزاد جنم دیا ہو، اور جب وہ اولاد کو غلام جنم دے تو وہ آزاد نہ ہوگی۔