السنن الكبرى للبيهقي
كتاب عتق أمهات الأولاد— امہات الاولاد کی آزادی کا بیان
باب: : الخلاف في أمهات الأولاد باب: امہات الاولاد (بچوں والی لونڈیوں) کے بارے میں اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَكْبًا، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ عِنْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَحَلَّ لَنَا أَشْيَاءَ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا، قَالَ: مَا أَحَلَّ لَكُمْ؟ قَالُوا: أَحَلَّ لَنَا أَنْ تُبَاعَ أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ: أَتَعْرِفُونَ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَعْنَ، أَوْ يُوهَبْنَ، أَوْ يُورَثْنَ، يَسْتَمْتِعُ مِنْهُنَّ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ عَتَقْنَ..عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک قافلہ کو ملے تو پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے۔ انہوں نے پوچھا: انہوں نے مشتبہ اشیاء کو حرام قرار دے دیا ہے، اس نے تمہارے لیے کیا حلال قرار دیا؟ انہوں نے کہا کہ «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» ”امہاتِ اولاد“ کو فروخت کرنا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم ابو حفص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، فرمایا: وہ ان کو فروخت کرنے، «هِبَة» ”ہبہ“ کرنے اور وراثت بنانے سے منع کرتے ہیں۔ مالک اپنی زندگی میں جتنا فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا لے، اس کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گی۔