السنن الكبرى للبيهقي
كتاب عتق أمهات الأولاد— امہات الاولاد کی آزادی کا بیان
باب: : الخلاف في أمهات الأولاد باب: امہات الاولاد (بچوں والی لونڈیوں) کے بارے میں اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ نَسْأَلُهُ عَنْ أُمِّ الْوَلَدِ: هَلْ تَعْتِقُ؟ فَقَالَ: " تَعْتِقُ مِنْ نَصِيبِ وَلَدِهَا ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَلَغَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَكَمَ بِعِتْقِهِنَّ بِمَوْتِ سَادَاتِهِنَّ نَصًّا، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَغَيْرُهُ عَلَى تَحْرِيمِ بَيْعِهِنَّ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هُوَ وَغَيْرُهُ اسْتَدَلَّ بِبَعْضِ مَا بَلَغَنَا وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَدُلُّ عَلَى عِتْقِهِنَّ، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَغَيْرُهُ عَلَى تَحْرِيمِ بَيْعِهِنَّ، فَالْأَوْلَى بِنَا مُتَابَعَتُهُمْ فِيمَا اجْتَمَعُوا عَلَيْهِ قَبْلَ الِاخْتِلَافِ، مَعَ الِاسْتِدْلَالِ بِالسُّنَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک آدمی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ہم نے «أُمُّ الْوَلَدِ» کی آزادی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ اپنی اولاد کے حصے سے آزاد ہوگی۔
شیخ فرماتے ہیں کہ لگتا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے یہ «نَصٌّ» پہنچی ہو کہ آپ ﷺ نے ان کے مالکوں کی موت پر ان کی آزادی کا فیصلہ فرمایا، اس لیے وہ اور دوسرے حضرات ان کی بیع کے حرام ہونے پر متفق ہو گئے۔ اور یہ بھی لگتا ہے کہ انہوں نے اور دوسروں نے نبی ﷺ سے ہم تک پہنچنے والی اور ہماری روایت کردہ ان بعض باتوں سے استدلال کیا ہو جو ان کی آزادی پر دلالت کرتی ہیں، اس لیے وہ اور دوسرے حضرات ان کی بیع کے حرام ہونے پر متفق ہو گئے۔ لہٰذا ہمارے لیے بہتر یہی ہے کہ سنت سے استدلال کے ساتھ ساتھ ہم ان کی اس بات میں پیروی کریں جس پر وہ اختلاف سے پہلے متفق تھے۔ واللہ اعلم۔