حدیث نمبر: 21795
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ بِبَغْدَادَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: لَقِيَ رَجُلَانِ ابْنَ عُمَرَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَا لَهُ: تَرَكْنَا هَذَا الرَّجُلَ يَعْنُونَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ لَهُمْ: لَكِنَّ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ أَتَعْرِفَانِهِ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: قَضَى فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَنْ لَا يُبَعْنَ، وَلَا يُوهَبْنَ، وَلَا يُورَثْنَ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا صَاحِبُهَا مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ..
حافظ ثناء اللہ

عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ، حضرت نافع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ کے راستے میں دو آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملے، انہوں نے کہا: ہم نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ہے، وہ امہات الاولاد کو فروخت کرتا ہے، وہ ان سے کہنے لگے: کیا تم ابوحفص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ امہات الاولاد کو فروخت کرنا، ہبہ اور وراثت بنانا جائز نہیں ہے، اس کا مالک اپنی زندگی میں فائدہ اٹھائے، مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب عتق أمهات الأولاد / حدیث: 21795
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»