السنن الكبرى للبيهقي
كتاب عتق أمهات الأولاد— امہات الاولاد کی آزادی کا بیان
باب: : الخلاف في أمهات الأولاد باب: امہات الاولاد (بچوں والی لونڈیوں) کے بارے میں اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 21794
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " اجْتَمَعَ رَأْيِي وَرَأْيُ عُمَرَ عَلَى عِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، ثُمَّ رَأَيْتُ بَعْدُ أَنْ أَرِقَّهُنَّ فِي كَذَا وَكَذَا "، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: رَأْيُكَ وَرَأْيُ عُمَرَ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِكَ وَحْدَكَ فِي الْفُرْقَةِ ".حافظ ثناء اللہ
عبیدہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میری اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے امہات الاولاد کو آزاد کرنے میں ایک تھی، لیکن میں بعد میں ان کو غلام رکھتا تھا، میں نے کہا: مجھے آپ ﷺ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اکٹھی رائے آپ کی اکیلے کی رائے سے زیادہ پسند ہے۔