❮
❯
حدیث نمبر: 21770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ دِمَشْقَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ يَوْمَئِذٍ مَشْغُولٌ بِشَأْنِهِ، فَجَلَسْتُ فِي مَجْلِسٍ لَا أَعْرِفُهُمْ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَوْسَعُوا لَهُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي شَيْءٍ ذَكَرَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ آنِفًا، أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَيُرَّقَّقْنَ أَوْ يُعْتَقْنَ؟ قُلْتُ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ يُعْجِبُهُ عَقْلُهُ وَلِسَانُهُ، ثُمَّ مَاتَ أَبُوهُ، وَتَرَكَ مَالًا، وَأُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ، فَأَقَامُوا أُمَّهُ، فَزَايَدُوهُ فِي أُمِّهِ حَتَّى أَخْرَجُوهُ مِنْ مِيرَاثِهِ، فَمَرَّ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَاهُ، فَسَأَلَهُ: مَا صَارَ لَهُ مِنْ مِيرَاثِ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ بِأُمِّي مِنْ مِيرَاثِ أَبِي، فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَأَقُولَنَّ فِي ذَلِكَ مَقَالًا أَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ "، فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّمَا رَجُلٍ حُرٍّ تَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ وَلَدَتْ مِنْهُ فَهِيَ حُرَّةٌ "، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَإِذَا هُوَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، وَإِذَا عَبْدُ الْمَلِكِ ذَكَرَ لِقَبِيصَةَ أَنَّهُ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَلَمْ يُثْبِتْهُ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرْتُهُ، فَبَدَأَ فَسَأَلَنِي: مَا نَسَبِي؟ فَلَمَّا بَلَغْتُ أَبِي، قَالَ: إِنْ كَانَ أَبُوكَ لَنَعَّارًا فِي الْفِتْنَةِ، مَا حَدِيثُ سَعِيدٍ الَّذِي أَخْبَرَنِي عَنْكَ قَبِيصَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِمِثْلِ مَا أَخْبَرْتُ قَبِيصَةَ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ فَأُمْضِيَ، فَقَالَ: مَا مَاتَ رَجُلٌ تَرَكَ مِثْلَكَ..
حافظ ثناء اللہ

ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں دمشق آیا تو عبد الملک ان دنوں اپنے کام میں مصروف تھے۔ میں ایک مجلس میں بیٹھ گیا جس کے لوگوں کو میں نہیں جانتا تھا۔ ایک آدمی آیا تو لوگوں نے اس کے لیے جگہ کشادہ کر دی۔ اس نے کہا: تمہارا اس بات کے بارے میں کیا خیال ہے جو امیر المومنین نے ابھی ذکر کی، جو مدینہ منورہ کی طرف سے «أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ» (امہات الاولاد) کے بارے میں ان کے پاس آئی کہ انہیں غلام رکھا جائے یا آزاد کیا جائے؟ میں نے کہا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ قریش کا ایک آدمی تھا جس کی عقل اور زبان پسند کی جاتی تھی۔ پھر اس کا باپ فوت ہو گیا اور مال چھوڑ گیا، اور اس کی والدہ «أُمُّ وَلَدٍ» (ام ولد) تھی۔ انہوں نے اس کی والدہ کی قیمت لگائی اور اس کی والدہ کے بارے میں اس پر بولی بڑھاتے رہے یہاں تک کہ اسے اس کی وراثت سے نکال دیا۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے اسے بلایا اور پوچھا کہ اسے اپنے باپ کی وراثت میں سے کیا ملا؟ اس نے کہا: میں اپنے باپ کی وراثت میں سے (صرف) اپنی والدہ کو لے کر نکلا ہوں۔ فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بارے میں ضرور ایسی بات کہوں گا جس کے ذریعے لوگوں کو اس سے بچاؤں گا۔ پھر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر فرمایا: اے لوگو! جو بھی آزاد آدمی ایسی «أُمُّ وَلَدٍ» (ام ولد) چھوڑ جائے جس نے اس سے بچہ جنا ہو تو وہ آزاد ہے۔ (ابن شہاب) کہتے ہیں: پھر اس (آدمی) نے میرا ہاتھ پکڑا، تو وہ قبیصہ بن ذویب تھے، یہاں تک کہ مجھے عبد الملک بن مروان کے پاس لے گئے۔ عبد الملک نے قبیصہ سے ذکر کیا تھا کہ یہ (روایت) سعید بن مسیب کی ہے، لیکن انہیں اس کا یقین نہ تھا۔ چنانچہ مجھے ان کے پاس لے جایا گیا اور (قبیصہ نے) انہیں یہ حدیث بتائی جو میں نے انہیں بتائی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں مجھ سے میرا نسب پوچھا، جب میں اپنے باپ کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے: تمہارا باپ تو فتنے میں شور برپا کرنے والا تھا۔ سعید کی وہ کون سی حدیث ہے جو قبیصہ نے مجھے تمہارے حوالے سے بتائی ہے؟ تو میں نے انہیں بھی وہی بتایا جو قبیصہ کو بتایا تھا۔ انہوں نے اس کا حکم دیا تو اسے نافذ کر دیا گیا، اور کہنے لگے: جو آدمی تم جیسا (بیٹا) چھوڑ جائے وہ مرا نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21770
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»