السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ دِمَشْقَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ يَوْمَئِذٍ مَشْغُولٌ بِشَأْنِهِ، فَجَلَسْتُ فِي مَجْلِسٍ لَا أَعْرِفُهُمْ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَوْسَعُوا لَهُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي شَيْءٍ ذَكَرَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ آنِفًا، أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَيُرَّقَّقْنَ أَوْ يُعْتَقْنَ؟ قُلْتُ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ يُعْجِبُهُ عَقْلُهُ وَلِسَانُهُ، ثُمَّ مَاتَ أَبُوهُ، وَتَرَكَ مَالًا، وَأُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ، فَأَقَامُوا أُمَّهُ، فَزَايَدُوهُ فِي أُمِّهِ حَتَّى أَخْرَجُوهُ مِنْ مِيرَاثِهِ، فَمَرَّ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَاهُ، فَسَأَلَهُ: مَا صَارَ لَهُ مِنْ مِيرَاثِ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ بِأُمِّي مِنْ مِيرَاثِ أَبِي، فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَأَقُولَنَّ فِي ذَلِكَ مَقَالًا أَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ "، فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّمَا رَجُلٍ حُرٍّ تَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ وَلَدَتْ مِنْهُ فَهِيَ حُرَّةٌ "، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَإِذَا هُوَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، وَإِذَا عَبْدُ الْمَلِكِ ذَكَرَ لِقَبِيصَةَ أَنَّهُ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَلَمْ يُثْبِتْهُ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرْتُهُ، فَبَدَأَ فَسَأَلَنِي: مَا نَسَبِي؟ فَلَمَّا بَلَغْتُ أَبِي، قَالَ: إِنْ كَانَ أَبُوكَ لَنَعَّارًا فِي الْفِتْنَةِ، مَا حَدِيثُ سَعِيدٍ الَّذِي أَخْبَرَنِي عَنْكَ قَبِيصَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِمِثْلِ مَا أَخْبَرْتُ قَبِيصَةَ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ فَأُمْضِيَ، فَقَالَ: مَا مَاتَ رَجُلٌ تَرَكَ مِثْلَكَ..ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں دمشق آیا تو عبد الملک کسی کام میں مصروف تھے۔ میں ان کی مجلس میں بیٹھ گیا، کسی کو جانتا نہ تھا۔ ایک آدمی نے متوجہ ہو کر جگہ میں وسعت کر دی۔ کہنے لگا: تمہارا کیا خیال ہے جو ابھی امیر المومنین نے ذکر کیا جو مدینہ منورہ سے حکم آیا کہ «أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ» (امہات الاولاد) کو آزاد کیا جائے یا غلام رکھا جائے؟ جس نے کہا کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ایک قریشی مرد کا تذکرہ کیا۔ اس کی عقل اور زبان بڑی اچھی تھی۔ اس کا باپ فوت ہو گیا، اس نے مال اور «أُمُّ وَلَدٍ» (ام ولد) چھوڑی تو آخر کار انہوں نے اس کو وراثت سے نکال دیا۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے بلایا اور پوچھا: اس کے باپ کی وراثت کا کیا بنا؟ کہنے لگا: میں نے اپنی والدہ کو اپنے باپ کی وراثت سے نکال دیا ہے۔ فرمانے لگے کہ میں بھی لوگوں کو ایسی بات کہنے والا ہوں کہ لوگ اس سے بچیں۔ پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ جو آزاد آدمی ہو اس کے پاس «أُمُّ وَلَدٍ» (ام ولد) لونڈی ہو تو اس کی موت کے بعد وہ آزاد ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا، وہ قبیصہ بن ذویب اور عبد الملک بن مروان کے پاس لے گئے۔ اچانک عبد الملک نے قبیصہ کے سامنے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا تذکرہ کر دیا کہ وہ ثابت نہیں ہیں۔ جس حدیث کی خبر میں نے دی تو اس نے میرا نسب پوچھنا شروع کر دیا۔ جب میں اپنے باپ کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے کہ وہ فتنہ میں آگ لگانے والے تھے۔ وہ کون سی حدیث ہے جو آپ نے قبیصہ کو بیان کی ہے؟ تو میں نے ان کو بھی خبر دی۔ کہنے لگے: اس طرح کا کوئی آدمی فوت ہی نہیں ہوا۔