السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ ⦗٥٧٦⦘ يَعْنِي ابْنَ مَرْوَانَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَذْكُرُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ بِأُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَنْ يُقَوَّمْنَ فِي أَمْوَالِ أَبْنَائِهِنَّ بِقِيمَةِ عَدْلٍ، ثُمَّ يُعْتَقْنَ، فَمَكَثَ بِذَلِكَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَهُ ابْنُ أُمِّ وَلَدٍ، قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْجَبُ بِذَلِكَ الْغُلَامِ، فَمَرَّ ذَلِكَ الْغُلَامُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهِ بِلَيَالٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا فَعَلْتَ يَا ابْنَ أَخِي فِي أُمِّكَ؟ "، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، حِينَ خَيَّرَنِي إِخْوَتِي فِي أَنْ يَسْتَرِقُّوا أُمِّيَ، أَوْ يُخْرِجُونِيَ مِنْ مِيرَاثِي مِنْ أَبِي، فَكَانَ مِيرَاثِي مِنْ أَبِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ تُسْتَرَقَّ أُمِّي، قَالَ عُمَرُ: " أَوَلَسْتُ إِنَّمَا أَمَرْتُ فِي ذَلِكَ بِقِيمَةِ عَدْلٍ؟ مَا أَتَرَاءَى رَأْيًا أَوْ آمُرُ بِشَيْءٍ إِلَّا قُلْتُمْ فِيهِ؟ "، ثُمَّ قَامَ فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ حَتَّى إِذَا رَضِيَ جَمَاعَتَهُمْ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ بِأَمْرٍ قَدْ عَلِمْتُمُوهُ، ثُمَّ قَدْ حَدَثَ لِي رَأْيٌ غَيْرُ ذَلِكَ، فَأَيُّمَا امْرِئٍ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ وَلَدٍ فَمَلَكَهَا بِيَمِينِهِ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ لَا سَبِيلَ عَلَيْهَا ".سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ امہات الاولاد کی عدل والی قیمت لگائی جائے پھر آزاد کردی جائیں، یہ ان کی خلافت کی ابتدا میں تھا، پھر ایک قریشی مرد فوت ہوگیا، اس کی ام ولد تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس بچے سے تعجب کرتے تھے، یہ بچہ اپنے باپ کی وفات کے چند راتوں بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے مسجد میں گزرا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے بچے! تو نے اپنی والدہ کے بارے میں کیا کیا؟“ وہ کہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین! جب میرے بھائیوں نے مجھے اختیار دیا کہ وہ میری والدہ کو لونڈی رکھیں یا مجھے میرے والد کی وراثت سے نکال دیں، مجھے میرے والد کی میراث سے نکال دیں یہ زیادہ آسان ہے کہ میری والدہ کو غلام رکھیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں نے عدل کی قیمت مقرر کرنے کا حکم نہیں دیا؟ تو آپ میری رائے یا میرے حکم کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں؟“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ جمع ہوئے تو انہوں نے اس جماعت کو راضی کرلیا، فرمانے لگے: ”امہات الاولاد کے بارے میں تم میرے حکم کو جانتے ہو، پھر مجھے دوسرا خیال آیا، جس کے پاس ام ولد ہو وہ اپنی زندگی تک اس کا مالک ہے، جب فوت ہوجائے تو وہ آزاد ہے۔“