کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
❮
❯
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هِيَ مَمْلُوكَةٌ بِحَالِهَا، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِسَيِّدِهَا بَيْعُهَا وَلَا إِخْرَاجُهَا عَنْ مِلْكِهِ بِشَيْءٍ غَيْرِ الْعِتْقِ، وَإِنَّهَا حُرَّةٌ إِذَا مَاتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ. قَالَ: هُوَ تَقْلِيدٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ (ام ولد) اپنی حالت میں مملوکہ (لونڈی) ہی ہے، البتہ اس کے آقا کے لیے اسے بیچنا جائز نہیں اور نہ ہی آزاد کرنے کے سوا کسی اور طریقے سے اسے اپنی ملکیت سے نکالنا جائز ہے، اور جب وہ (آقا) فوت ہو جائے تو وہ (لونڈی) اصل مال (ترکے) میں سے آزاد ہو جائے گی۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”یہ (مؤقف) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تقلید میں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21763
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا، وَلَا يَهَبُهَا، وَلَا يُوَرِّثُهَا، وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ مِنْهَا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس لونڈی نے اپنے آقا کی اولاد کو جنم دیا اس کو فروخت، ہبہ اور وراثت نہ بنایا جائے، مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21763
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْحَمَّامِيِّ الْمُقْرِئُ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى عُمَرُ عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ: " لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ "..
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نہ فروخت کیا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ وراثت بنائی جائے گی، اس کا مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ فوت ہو گا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21764
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ قِبَلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَحَلَّ لَنَا أَشْيَاءَ كَانَتْ تُحَرَّمُ عَلَيْنَا، قَالَ: مَا أَحَلَّ لَكُمْ مِمَّا كَانَ يَحْرُمُ عَلَيْكُمْ؟ قَالَا: أَحَلَّ لَنَا بَيْعَ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، قَالَ: أَتَعْرِفَانِ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى أَنْ تُبَاعَ أَوْ تُوهَبَ أَوْ تُورَثَ: " يَسْتَمْتِعُ بِهَا مَا كَانَ حَيًّا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ ". هَكَذَا رَوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، وَغَلِطَ فِيهِ بَعْضُ الرُّوَاةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٧٥⦘ دِينَارٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ وَهْمٌ لَا يَحِلُّ ذِكْرُهُ..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگے: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سے اور انہوں نے ہمارے لیے کچھ اشیاء حلال قرار دی ہیں جو ہم پر حرام تھیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: اس نے تمہارے لیے کیا حلال قرار دیا جو تم پر حرام قرار دی گئی؟ وہ کہنے لگے: اس نے امہات الاولاد کی بیع کو جائز قرار دیا ہے؟ فرمانے لگے: کیا تم ابوحفص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: وہ امہات الاولاد کی فروخت، ہبہ یا وراثت بنانے سے منع کرتے تھے، اس کا مالک اس سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔
جماعت نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور بعض راویوں نے عبداللہ بن دینار سے اس میں غلطی کی اور اسے نبی ﷺ تک مرفوع کر دیا، اور یہ وہم ہے جس کا ذکر کرنا جائز نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21765
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " اسْتَشَارَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَرَأَيْتُ أَنَا وَهُوَ أَنَّهَا عَتِيقَةٌ، فَقَضَى بِهَا عُمَرُ حَيَاتَهُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَهُ، فَلَمَّا وُلِّيتُ أَنَا، رَأَيْتُ أَنْ أَرِقَّهُنَّ ". قَالَ: فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّهُ سَأَلَ عُبَيْدَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ "، قَالَ: " رَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جَمِيعًا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ أَدْرَكَ الِاخْتِلَافَ "..
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» ”امہاتِ اولاد“ کی بیع کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے مشورہ کیا، میں اور وہ دونوں اس کو آزاد خیال کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ فرمایا، جب میں خلیفہ بنا تو میں ان کو غلام خیال کرتا تھا، محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے حضرت عبیدہ رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا کہ کون سی رائے آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی (مشترکہ) رائے کو میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی (اکیلی) رائے سے زیادہ محبوب جانتا ہوں، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اختلاف کو پا لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21766
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عُمَرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " نَاظَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ فَقُلْتُ: " يُبَعْنَ "، وَقَالَ: لَا يُبَعْنَ، قَالَ: " فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى قُلْتُ بِقَوْلِهِ، فَقَضَى بِذَلِكَ حَيَاتَهُ، فَلَمَّا أَفْضَى الْأَمْرُ إِلِيَّ رَأَيْتُ أَنْ يُبَعْنَ ". قَالَ الشَّعْبِيُّ: " وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: فَرَأْيُكَ وَرَأْيُ عُمَرَ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِكَ وَحْدَكَ فِي الْفُرْقَةِ ". قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے امہات الاولاد کی بیع کے بارے میں مناظرہ کیا، میں نے کہا: فروخت کی جائے گی، اور وہ فرماتے تھے: فروخت نہ کی جائے گی، ہمیشہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے مراجعت فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے ان کی بات مان لی، انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا۔ جب میں خلیفہ بنا تو میرا خیال تھا کہ ان کو فروخت کیا جائے، محمد بن سیرین رحمہ اللہ سیدنا عبیدہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اجتماعی سوچ مجھے آپ کی اکیلے کی رائے سے زیادہ محبوب ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21767
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهْيَارَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: بَاعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، ثُمَّ رَجَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کو فروخت کیا، بعد میں رجوع کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21768
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ ⦗٥٧٦⦘ يَعْنِي ابْنَ مَرْوَانَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَذْكُرُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ بِأُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَنْ يُقَوَّمْنَ فِي أَمْوَالِ أَبْنَائِهِنَّ بِقِيمَةِ عَدْلٍ، ثُمَّ يُعْتَقْنَ، فَمَكَثَ بِذَلِكَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَهُ ابْنُ أُمِّ وَلَدٍ، قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْجَبُ بِذَلِكَ الْغُلَامِ، فَمَرَّ ذَلِكَ الْغُلَامُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهِ بِلَيَالٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا فَعَلْتَ يَا ابْنَ أَخِي فِي أُمِّكَ؟ "، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، حِينَ خَيَّرَنِي إِخْوَتِي فِي أَنْ يَسْتَرِقُّوا أُمِّيَ، أَوْ يُخْرِجُونِيَ مِنْ مِيرَاثِي مِنْ أَبِي، فَكَانَ مِيرَاثِي مِنْ أَبِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ تُسْتَرَقَّ أُمِّي، قَالَ عُمَرُ: " أَوَلَسْتُ إِنَّمَا أَمَرْتُ فِي ذَلِكَ بِقِيمَةِ عَدْلٍ؟ مَا أَتَرَاءَى رَأْيًا أَوْ آمُرُ بِشَيْءٍ إِلَّا قُلْتُمْ فِيهِ؟ "، ثُمَّ قَامَ فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ حَتَّى إِذَا رَضِيَ جَمَاعَتَهُمْ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ بِأَمْرٍ قَدْ عَلِمْتُمُوهُ، ثُمَّ قَدْ حَدَثَ لِي رَأْيٌ غَيْرُ ذَلِكَ، فَأَيُّمَا امْرِئٍ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ وَلَدٍ فَمَلَكَهَا بِيَمِينِهِ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ لَا سَبِيلَ عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ امہات الاولاد کی ان کے بیٹوں کے مال (حصے) میں عدل والی قیمت لگائی جائے پھر آزاد کردی جائیں، یہ ان کی خلافت کی ابتدا میں تھا، پھر ایک قریشی مرد فوت ہوگیا، اس کی ام ولد سے ایک بیٹا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس بچے کو پسند کرتے تھے، یہ بچہ اپنے باپ کی وفات کے چند راتوں بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے مسجد میں گزرا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے بھتیجے! تو نے اپنی والدہ کے بارے میں کیا کیا؟“ وہ کہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین! جب میرے بھائیوں نے مجھے اختیار دیا کہ وہ میری والدہ کو لونڈی رکھیں یا مجھے میرے والد کی وراثت سے نکال دیں، تو میرے والد کی میراث سے نکلنا مجھ پر اس سے زیادہ آسان تھا کہ میری والدہ کو لونڈی بنایا جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں نے اس بارے میں عدل کی قیمت مقرر کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ میں جو بھی رائے قائم کروں یا جو بھی حکم دوں تم اس میں باتیں بناتے ہو؟“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ ان کے پاس جمع ہوئے، جب وہ ان کی جماعت (کی تعداد) سے مطمئن ہو گئے تو فرمانے لگے: ”امہات الاولاد کے بارے میں تم میرے حکم کو جانتے ہو، پھر مجھے دوسرا خیال آیا، جس کے پاس ام ولد ہو وہ اپنی زندگی تک اس کا مالک ہے، جب فوت ہوجائے تو وہ آزاد ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21769
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ دِمَشْقَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ يَوْمَئِذٍ مَشْغُولٌ بِشَأْنِهِ، فَجَلَسْتُ فِي مَجْلِسٍ لَا أَعْرِفُهُمْ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَوْسَعُوا لَهُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي شَيْءٍ ذَكَرَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ آنِفًا، أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَيُرَّقَّقْنَ أَوْ يُعْتَقْنَ؟ قُلْتُ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ يُعْجِبُهُ عَقْلُهُ وَلِسَانُهُ، ثُمَّ مَاتَ أَبُوهُ، وَتَرَكَ مَالًا، وَأُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ، فَأَقَامُوا أُمَّهُ، فَزَايَدُوهُ فِي أُمِّهِ حَتَّى أَخْرَجُوهُ مِنْ مِيرَاثِهِ، فَمَرَّ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَاهُ، فَسَأَلَهُ: مَا صَارَ لَهُ مِنْ مِيرَاثِ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ بِأُمِّي مِنْ مِيرَاثِ أَبِي، فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَأَقُولَنَّ فِي ذَلِكَ مَقَالًا أَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ "، فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّمَا رَجُلٍ حُرٍّ تَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ وَلَدَتْ مِنْهُ فَهِيَ حُرَّةٌ "، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَإِذَا هُوَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، وَإِذَا عَبْدُ الْمَلِكِ ذَكَرَ لِقَبِيصَةَ أَنَّهُ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَلَمْ يُثْبِتْهُ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرْتُهُ، فَبَدَأَ فَسَأَلَنِي: مَا نَسَبِي؟ فَلَمَّا بَلَغْتُ أَبِي، قَالَ: إِنْ كَانَ أَبُوكَ لَنَعَّارًا فِي الْفِتْنَةِ، مَا حَدِيثُ سَعِيدٍ الَّذِي أَخْبَرَنِي عَنْكَ قَبِيصَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِمِثْلِ مَا أَخْبَرْتُ قَبِيصَةَ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ فَأُمْضِيَ، فَقَالَ: مَا مَاتَ رَجُلٌ تَرَكَ مِثْلَكَ..
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں دمشق آیا تو عبد الملک ان دنوں اپنے کام میں مصروف تھے۔ میں ایک مجلس میں بیٹھ گیا جس کے لوگوں کو میں نہیں جانتا تھا۔ ایک آدمی آیا تو لوگوں نے اس کے لیے جگہ کشادہ کر دی۔ اس نے کہا: تمہارا اس بات کے بارے میں کیا خیال ہے جو امیر المومنین نے ابھی ذکر کی، جو مدینہ منورہ کی طرف سے «أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ» (امہات الاولاد) کے بارے میں ان کے پاس آئی کہ انہیں غلام رکھا جائے یا آزاد کیا جائے؟ میں نے کہا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ قریش کا ایک آدمی تھا جس کی عقل اور زبان پسند کی جاتی تھی۔ پھر اس کا باپ فوت ہو گیا اور مال چھوڑ گیا، اور اس کی والدہ «أُمُّ وَلَدٍ» (ام ولد) تھی۔ انہوں نے اس کی والدہ کی قیمت لگائی اور اس کی والدہ کے بارے میں اس پر بولی بڑھاتے رہے یہاں تک کہ اسے اس کی وراثت سے نکال دیا۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے اسے بلایا اور پوچھا کہ اسے اپنے باپ کی وراثت میں سے کیا ملا؟ اس نے کہا: میں اپنے باپ کی وراثت میں سے (صرف) اپنی والدہ کو لے کر نکلا ہوں۔ فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بارے میں ضرور ایسی بات کہوں گا جس کے ذریعے لوگوں کو اس سے بچاؤں گا۔ پھر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر فرمایا: اے لوگو! جو بھی آزاد آدمی ایسی «أُمُّ وَلَدٍ» (ام ولد) چھوڑ جائے جس نے اس سے بچہ جنا ہو تو وہ آزاد ہے۔ (ابن شہاب) کہتے ہیں: پھر اس (آدمی) نے میرا ہاتھ پکڑا، تو وہ قبیصہ بن ذویب تھے، یہاں تک کہ مجھے عبد الملک بن مروان کے پاس لے گئے۔ عبد الملک نے قبیصہ سے ذکر کیا تھا کہ یہ (روایت) سعید بن مسیب کی ہے، لیکن انہیں اس کا یقین نہ تھا۔ چنانچہ مجھے ان کے پاس لے جایا گیا اور (قبیصہ نے) انہیں یہ حدیث بتائی جو میں نے انہیں بتائی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں مجھ سے میرا نسب پوچھا، جب میں اپنے باپ کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے: تمہارا باپ تو فتنے میں شور برپا کرنے والا تھا۔ سعید کی وہ کون سی حدیث ہے جو قبیصہ نے مجھے تمہارے حوالے سے بتائی ہے؟ تو میں نے انہیں بھی وہی بتایا جو قبیصہ کو بتایا تھا۔ انہوں نے اس کا حکم دیا تو اسے نافذ کر دیا گیا، اور کہنے لگے: جو آدمی تم جیسا (بیٹا) چھوڑ جائے وہ مرا نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21770
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَلَا ⦗٥٧٧⦘ يُجْعَلْنَ فِي الثُّلُثِ، وَأَمَرَ أَنْ لَا يُبَعْنَ فِي الدَّيْنِ. . قَالَ جَعْفَرٌ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ: ”امہات الاولاد کو آزاد کر دیا جائے، ان کو ثلث میں نہ رکھا جائے اور قرض میں فروخت نہ کیا جائے۔“
جعفر کہتے ہیں: اس حدیث کو ان (عبدالرحمن بن زیاد) کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی ﷺ نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21771
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کو آزاد کیا۔ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے بھی آزاد کیا تھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21772
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ سَمِعَ صَائِحَةً، فَقَالَ: " يَا يَرْفَأُ، انْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ؟ فَانْطَلَقَ فَنَظَرَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: جَارِيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ تُبَاعُ أُمُّهَا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: " ادْعُ"، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ بِالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا سَاعَةً حَتَّى امْتَلَأَتِ الدَّارُ وَالْحُجْرَةُ، قَالَ: فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَهَلْ تَعْلَمُونَهُ كَانَ مِمَّا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَطِيعَةُ؟ "، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَإِنَّهَا قَدْ أَصْبَحَتْ فِيكُمْ فَاشِيَةً، ثُمَّ قَرَأَ: {هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ}، ثُمَّ قَالَ: " وَأِيُّ قَطِيعَةٍ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُبَاعَ أُمُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ؟ وَقَدْ أَوْسَعَ اللهُ لَكُمْ"، قَالُوا: فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، أَوْ مَا شِئْتَ، قَالَ: " فَكَتَبَ فِي الْآفَاقِ: " أَنْ لَا تُبَاعَ أُمُّ حُرٍّ، فَإِنَّهُ قَطِيعَةٌ، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اچانک انہوں نے ایک چیخ سنی، کہنے لگے: اے یرفئا! دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ وہ دیکھ کر آئے اور کہنے لگے کہ قریش کی ایک لڑکی ہے جس کی والدہ کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلاؤ، یا فرمایا: مہاجرین و انصار کو بلاؤ، تھوڑی دیر میں گھر اور حجرہ بھر گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ قطع رحمی بھی ان چیزوں میں سے ہے جو محمد ﷺ لے کر آئے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: حالانکہ وہ تمہارے معاشرے میں عام ہو چکی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ [سورة محمد: 22] ”عنقریب اگر تم پھر گئے کہ تم زمین میں فساد کرو اور اپنی رشتہ داریوں کو کاٹو۔“
پھر فرمایا: اس سے بڑی قطع رحمی کیا ہے کہ تم میں سے کسی کی ماں کو فروخت کیا جائے، حالانکہ اللہ نے تمہارے اوپر وسعت کی ہے، لوگوں نے کہا: جو چاہو فیصلہ کرو، تو انہوں نے علاقوں میں خط لکھوا دیے کہ آزاد آدمی کی ماں کو فروخت نہ کیا جائے۔ یہ قطع رحمی ہے اور جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21773
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّ اللهَ قَدْ أَفَاءَ عَلَيْكُمْ مِنْ بِلَادِ الْأَعَاجِمِ مِنْ نِسَائِهِمْ وَأَوْلَادِهِمْ مَا لَمْ يُفِيءْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ رِجَالًا سَيَلُمُّونَ بِالنِّسَاءِ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ الْعَجَمِ فَلَا تَبِيعُوا ⦗٥٧٨⦘ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِكُمْ فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَطَأَ حَرِيمَهُ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ "..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سعید رحمہ اللہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے منبر پر فرماتے سنا: ”اے مسلمانوں کی جماعت! اللہ نے عجمیوں کے علاقوں سے ان کی عورتیں اور اولادیں تمہیں مال فے کے طور پر دی ہیں، جو رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہیں دی تھیں۔ میں جانتا ہوں کہ لوگ ان عورتوں سے مجامعت کریں گے، تو جس مرد کے ہاں عجمی عورتوں میں سے کوئی عورت بچہ جنے تو تم «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» ”امہات الاولاد“ کو فروخت نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو قریب ہے کہ آدمی اپنی محرم سے مجامعت کر بیٹھے اور اسے شعور بھی نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21774
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَتْ جَدَّتِي أُمَّ وَلَدٍ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَأَرَادَ ابْنٌ لِعُثْمَانَ أَنْ يَبِيعَهَا بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ، وَإِنَّهَا أَتَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَرَادَ أَنْ يَبِيعَنِي، وَقَدْ كُنْتُ وَلَدْتُ لِأَبِيهِ، فَلَوْ كَلَّمْتِيهِ فَوَضَعَنِي مَوْضِعًا صَالِحًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَوَلَدْتِ لِأَبِيهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَأْتِي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْتِقُكِ، فَأَتَتْ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا وَلَدَتْ مِنْ عُثْمَانَ وَأَنَّ ابْنَهُ يُرِيدُ بَيْعَهَا، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَقَالَ: " أَرَدْتَ ذَلِكَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " لَيْسَ ذَاكَ لَكَ "، أَظُنُّهُ قَالَ: فَهِيَ حُرَّةٌ، قَالَتْ جَدَّتِي: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا أَعْتَقَنِي، قَالَ: " وَلَدُكِ مِنْ عُثْمَانَ "، قَالَتْ فَإِنَّهُ قَدْ جَرَحَنِي هَذِهِ الْجِرَاحَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَعْطِهَا أَرْشَ مَا صَنَعْتَ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری دادی عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی امِ ولد تھیں، تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے انہیں فروخت کرنا چاہا۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں کہ عثمان بن مظعون کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے باپ کی اولاد مجھ سے ہے، اگر آپ ان سے بات کریں تو وہ مجھے درست جگہ رکھیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کے باپ کی اولاد کو جنم دیا ہے؟“ کہتی ہیں: ہاں۔ کہنے لگی: ”آپ امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ تمہیں آزاد کر دیں گے۔“ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور خبر دی کہ عثمان کی اولاد مجھ سے ہے اور اس کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عثمان بن مظعون کے بیٹے کو پیغام دیا: ”کیا آپ کا یہی ارادہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے لیے یہ جائز نہیں، یہ آزاد ہے“، میری دادی نے پوچھا: ”مجھے کس نے آزاد کیا؟“ فرمایا: ”تیری اولاد نے جو عثمان سے ہے“، کہنے لگی: اس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد مجھے یہ زخم لگائے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا تاوان دو جو آپ نے اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21775
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُمَرَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ: أَعْتَقَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ وَمَنْ بَيْنَهُمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ " وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ أَخْبَارٌ..
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے درمیان جتنے خلیفہ تھے، وہ امہات الاولاد کو آزاد کر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21776
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
مِنْهَا: مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، خَتَنُ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي سَلَّامَةُ بِنْتُ مَعْقِلٍ، قَالَتْ: كُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَاتَ وَلِي مِنْهُ غُلَامٌ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الْآنَ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَاحِبُ تَرِكَةِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو "؟ فَقَالُوا: أَخُوهُ أَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَبِيعُوهَا، وَأَعْتِقُوهَا، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدْ جَاءَنِي فَائْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا "، فَفَعَلُوا، وَاخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَوْمٌ: إِنَّ أُمَّ الْوَلَدِ مَمْلُوكَةٌ، لَوْلَا ذَلِكَ لَمْ يُعَوِّضْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ هِيَ حُرَّةٌ، قَدْ أَعْتَقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفِي ذَا كَانَ الِاخْتِلَافُ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِمَعْنَاهُ دُونَ مَا فِي آخِرِهِ مِنَ الِاخْتِلَافِ..
حافظ ثناء اللہ
سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حباب بن عمرو رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھی، وہ فوت ہو گئے، ان کا ایک بچہ بھی تھا۔ ان کی بیوی نے کہا: اس کے قرض میں تجھے فروخت کیا جائے گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حباب بن عمرو کے ترکہ کا وارث کون ہے؟“ انھوں نے کہا: اس کا بھائی ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو، فروخت نہ کرنا۔ جب تم غلام کے بارے میں سنو تو میرے پاس لاؤ۔ میں تمہیں معاوضہ دوں گا۔“ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اختلاف کیا۔ کچھ کہتے ہیں کہ ام ولد لونڈی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ انہیں اس کا معاوضہ نہ دیتے۔ بعض نے کہا: یہ آزاد ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21777
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ⦗٥٧٩⦘ سُفْيَانَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى إِلَيْهِ، وَكَانَ فِيمَا تَرَكَ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ، وَامْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَكَانَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ أُمِّ الْوَلَدِ بَعْضُ الشَّيْءِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا الْحَرَّةُ: لَتُبَاعَنَّ رَقَبَتُكِ يَا لَكَاعِ، فَرَجَعَ خَوَّاتٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُبَاعُ "، وَأَمَرَ بِهَا فَأُعْتِقَتْ..
حافظ ثناء اللہ
بسر بن سعید رحمہ اللہ، خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے وصیت کی، ان کی ایک ام ولد اور ایک آزاد عورت تھی۔ آزاد عورت اور ام ولد کے درمیان کچھ معاملہ تھا تو آزاد عورت نے کہا: اے کمینی! تجھے فروخت کیا جائے گا، تو خوات رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے فروخت نہیں کیا جائے گا“ اور آپ ﷺ نے اس کی آزادی کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21778
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْعَسْقَلَانِيُّ قَالَ: وَسَمِعَهُ مِنِّي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ الْمَهْرِيُّ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَوْصَى إِلَيْهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. قَالَ: وَحَدَّثَنِي رِشْدِينُ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ..
حافظ ثناء اللہ
بسر بن سعید، خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے انہیں وصیت کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21779
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَلِيٌّ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. وَقَدْ قِيلَ: عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ بُكَيْرٍ بَدَلَ يَعْقُوبَ. وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث ہی کی ایک اور سند ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21780
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ مِنْهُ أَمَتُهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ ". حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ ضَعَّفَهُ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس مرد کی ام ولد ہو وہ اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔“
حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس ہاشمی کو اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21781
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ إِبْرَاهِيمَ حِينَ وَلَدَتْ: " أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا ". أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِ عَنْ حُسَيْنٍ بِهَذَا اللَّفْظِ..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب ام ابراہیم نے بچے کو جنم دیا تو اس کے بچے نے اس کو آزاد کر دیا ہے۔“
ابوبکر بن ابی سبرہ ضعیف ہے، اس سے دلیل نہیں لی جاتی، البتہ یہ روایت حسین سے دوسروں کے واسطے سے بھی انہی الفاظ کے ساتھ مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21782
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ ⦗٥٨٠⦘ الشَّعْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا ". كَذَا رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ حُسَيْنٍ مُرْسَلًا، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ أَبِي أُوَيْسٍ مَوْصُولًا بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ عَلَى مَعْنَى اللَّفْظِ الْأَوَّلِ، وَذَلِكَ فِيمَا رَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ كُلَيْبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ. كَمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب امِ ابراہیم نے نبی ﷺ کے بیٹے کو جنم دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچے نے اس کو آزاد کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21783
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمَدَائِنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَارَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ مَارِيَةُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا " قَالَ عَلِيٌّ: تَفَرَّدَ بِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَزِيَادٌ ثِقَةٌ، وَلِحَدِيثِ عِكْرِمَةَ عِلَّةٌ عَجِيبَةٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ماریہ رضی اللہ عنہا نے جنم دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بچے نے اس کو آزاد کر دیا ہے۔“
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: ابن ابی حسین کی حدیث کو بیان کرنے میں زیاد بن ایوب منفرد ہیں، اور زیاد ثقہ ہیں، اور عکرمہ کی حدیث میں ایک عجیب علت ہے، اگرچہ ان تک سند صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21784
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أُمُّ الْوَلَدِ أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا، وَإِنْ كَانَ سَقْطًا ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ أَبِي سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ام ولد کو اس کا بچہ آزاد کروا دیتا ہے، اگرچہ وہ مردہ ہی پیدا ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21785
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَرَوَاهُ خُصَيْفٌ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا وَلَدَتْ أُمُّ الْوَلَدِ مِنْ سَيِّدِهَا فَقَدْ عَتَقَتْ، وَإِنْ كَانَ سَقْطًا ". . أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا خُصَيْفٌ، فَذَكَرَهُ، فَعَادَ الْحَدِيثُ إِلَى عُمَرَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب ام ولد اپنے آقا کی اولاد کو جنم دے تو وہ آزاد ہو جاتی ہے، اگرچہ بچہ مردہ ہی پیدا ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21786
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: سُئِلَ عِكْرِمَةُ عَنْ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، قَالَ: " هُنَّ أَحْرَارٌ "، قَالُوا لَهُ: بِأِيِّ شَيْءٍ تَقُولُهُ؟ قَالَ: " بِالْقُرْآنِ "، قَالُوا: بِمَاذَا مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: " قَوْلُ اللهِ تَعَالَى: {أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: ٥٩] وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أُولِي الْأَمْرِ، قَالَ: عَتَقَتْ وَإِنْ كَانَ سَقْطًا ".
حافظ ثناء اللہ
حکم بن ابان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے امہات الاولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: وہ آزاد ہیں، انہوں نے کہا: آپ کیوں یہ بات کہتے ہیں؟ فرمایا: قرآن کی وجہ سے۔ انہوں نے کہا: قرآن میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [سورة النساء: 59] اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور حکمرانوں کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اولوالامر میں سے تھے۔ فرماتے ہیں: وہ آزاد ہوگی اگرچہ بچہ مردہ بھی ہو۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ام الولد آزاد ہے اگرچہ بچہ مردہ ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21787
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ إِبْرَاهِيمَ: " أَعْتَقَكِ وَلَدُكِ ". . هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَلَمْ يَتْرُكْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً "، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَتْرُكْ أُمَّ إِبْرَاهِيمَ أَمَةً، وَأَنَّهَا عَتَقَتْ بِمَوْتِهِ بِمَا تَقَدَّمَ مِنْ حُرْمَةِ الِاسْتِيلَادِ..
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی جعفر رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے امِ ابراہیم سے فرمایا: ”تجھے تیرے بچے نے آزاد کر دیا۔“
یہ روایت منقطع ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ فوت ہوئے تو کوئی درہم و دینار یا غلام و لونڈی نہ چھوڑی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21788
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَاحْتَجَّ أَصْحَابُنَا فِي ذَلِكَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَيْرِيزِ الْجُمَحِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ⦗٥٨٢⦘ قَالُوا: فَلَوْلَا أَنَّ الِاسْتِيلَادَ يَمْنَعُ مِنْ نَقْلِ الْمِلْكِ، وَإِلَّا لَمْ يَكُنْ لِعَزْلِهِمْ مَحَبَّةَ الْأَثْمَانِ فَائِدَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس تشریف فرما تھے، ایک انصاری آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری لونڈیاں ہیں، ہم قیمت کو پسند کرتے ہیں، کیا ان سے عزل کر لیا کریں؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم یہ کیوں کرتے ہو؟“ پھر فرمایا: ”تم پر لازم نہیں، جس جان نے پیدا ہونا ہے وہ ہو کر ہی رہے گی تم کچھ بھی کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21789
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَأَبَا صِرْمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمْ أَصَابُوا سَبْيًا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا، وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَ، فَتَرَاجَعْنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لَيْسَ بِجَائِزٍ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن محیریز، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہیں غزوہ بنو مصطلق میں لونڈیاں ملیں، ہم میں سے بعض انہیں اپنی بیویاں بنانا چاہتے تھے اور بعض فروخت کرنا چاہتے تھے، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ جائز نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم عزل نہ کرو، جو اللہ نے لکھ چھوڑا ہے کہ جس نے قیامت تک پیدا ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21790
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»