السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَلَا ⦗٥٧٧⦘ يُجْعَلْنَ فِي الثُّلُثِ، وَأَمَرَ أَنْ لَا يُبَعْنَ فِي الدَّيْنِ. . قَالَ جَعْفَرٌ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُهُ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ: ”امہات الاولاد کو آزاد کر دیا جائے، ان کو ثلث میں نہ رکھا جائے اور قرض میں فروخت نہ کیا جائے۔“
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی ﷺ نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔