السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " اسْتَشَارَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَرَأَيْتُ أَنَا وَهُوَ أَنَّهَا عَتِيقَةٌ، فَقَضَى بِهَا عُمَرُ حَيَاتَهُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَهُ، فَلَمَّا وُلِّيتُ أَنَا، رَأَيْتُ أَنْ أَرِقَّهُنَّ ". قَالَ: فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّهُ سَأَلَ عُبَيْدَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ "، قَالَ: " رَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جَمِيعًا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ أَدْرَكَ الِاخْتِلَافَ "..حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» ”امہاتِ اولاد“ کی بیع کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے مشورہ کیا، میں اور وہ دونوں اس کو آزاد خیال کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ فرمایا، جب میں خلیفہ بنا تو میں ان کو غلام خیال کرتا تھا، محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے حضرت عبیدہ رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا کہ کون سی رائے آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی (مشترکہ) رائے کو میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی (اکیلی) رائے سے زیادہ محبوب جانتا ہوں، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اختلاف کو پا لیا۔