السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21767
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عُمَرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " نَاظَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ فَقُلْتُ: " يُبَعْنَ "، وَقَالَ: لَا يُبَعْنَ، قَالَ: " فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى قُلْتُ بِقَوْلِهِ، فَقَضَى بِذَلِكَ حَيَاتَهُ، فَلَمَّا أَفْضَى الْأَمْرُ إِلِيَّ رَأَيْتُ أَنْ يُبَعْنَ ". قَالَ الشَّعْبِيُّ: " وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: فَرَأْيُكَ وَرَأْيُ عُمَرَ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِكَ وَحْدَكَ فِي الْفُرْقَةِ ". قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے امہات الاولاد کی بیع کے بارے میں مناظرہ کیا، میں نے کہا: فروخت کی جائے گی، اور وہ فرماتے تھے: فروخت نہ کی جائے گی، ہمیشہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے مراجعت فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے ان کی بات مان لی، انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا۔ جب میں خلیفہ بنا تو میرا خیال تھا کہ ان کو فروخت کیا جائے، محمد بن سیرین رحمہ اللہ سیدنا عبیدہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اجتماعی سوچ مجھے آپ کی اکیلے کی رائے سے زیادہ محبوب ہے۔