السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ قِبَلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَحَلَّ لَنَا أَشْيَاءَ كَانَتْ تُحَرَّمُ عَلَيْنَا، قَالَ: مَا أَحَلَّ لَكُمْ مِمَّا كَانَ يَحْرُمُ عَلَيْكُمْ؟ قَالَا: أَحَلَّ لَنَا بَيْعَ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، قَالَ: أَتَعْرِفَانِ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى أَنْ تُبَاعَ أَوْ تُوهَبَ أَوْ تُورَثَ: " يَسْتَمْتِعُ بِهَا مَا كَانَ حَيًّا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ ". هَكَذَا رَوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، وَغَلِطَ فِيهِ بَعْضُ الرُّوَاةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٧٥⦘ دِينَارٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ وَهْمٌ لَا يَحِلُّ ذِكْرُهُ..عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگے: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سے اور انہوں نے ہمارے لیے کچھ اشیاء حلال قرار دی ہیں جو ہم پر حرام تھیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: اس نے تمہارے لیے کیا حلال قرار دیا جو تم پر حرام قرار دی گئی؟ وہ کہنے لگے: اس نے امہات الاولاد کی بیع کو جائز قرار دیا ہے؟ فرمانے لگے: کیا تم ابوحفص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: وہ امہات الاولاد کی فروخت، ہبہ یا وراثت بنانے سے منع کرتے تھے، اس کا مالک اس سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔
جماعت نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور بعض راویوں نے عبداللہ بن دینار سے اس میں غلطی کی اور اسے نبی ﷺ تک مرفوع کر دیا، اور یہ وہم ہے جس کا ذکر کرنا جائز نہیں۔