السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْحَمَّامِيِّ الْمُقْرِئُ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى عُمَرُ عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ: " لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ "..حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نہ فروخت کیا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ وراثت بنائی جائے گی، اس کا مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ فوت ہو گا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔