السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هِيَ مَمْلُوكَةٌ بِحَالِهَا، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِسَيِّدِهَا بَيْعُهَا وَلَا إِخْرَاجُهَا عَنْ مِلْكِهِ بِشَيْءٍ غَيْرِ الْعِتْقِ، وَإِنَّهَا حُرَّةٌ إِذَا مَاتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ. قَالَ: هُوَ تَقْلِيدٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ (ام ولد) اپنی حالت میں مملوکہ (لونڈی) ہی ہے، البتہ اس کے آقا کے لیے اسے بیچنا جائز نہیں اور نہ ہی آزاد کرنے کے سوا کسی اور طریقے سے اسے اپنی ملکیت سے نکالنا جائز ہے، اور جب وہ (آقا) فوت ہو جائے تو وہ (لونڈی) اصل مال (ترکے) میں سے آزاد ہو جائے گی۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”یہ (مؤقف) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تقلید میں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا، وَلَا يَهَبُهَا، وَلَا يُوَرِّثُهَا، وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ مِنْهَا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ ".عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس لونڈی نے اپنے آقا کی اولاد کو جنم دیا اس کو فروخت، ہبہ اور وراثت نہ بنایا جائے، مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔