السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: ميراث المكاتب وولائه باب: مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان۔
وَبِإِسْنَادِهِ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَيْنِ لَهُ، وَتَرَكَ مُكَاتَبًا، فَصَارَ الْمُكَاتَبُ لِأَحَدِهِمَا، ثُمَّ قَضَى كِتَابَتَهُ لِلَّذِي صَارَ لَهُ فِي الْمِيرَاثِ، ثُمَّ مَاتَ الْمُكَاتَبُ، مَنْ يَرِثُهُ؟ قَالَ: " يَرِثَانِهِ جَمِيعًا ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ عَطَاءٌ: " رَجَعَ وَلَاؤُهُ إِلَى الَّذِي كَاتَبَهُ "، فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَبِقَوْلِ عَطَاءٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ نَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ يُكَاتِبُهُ الرَّجُلُ ثُمَّ يَمُوتُ السَّيِّدُ ثُمَّ يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ فَيُعْتَقُ بِالْكِتَابَةِ: إِنَّ وَلَاءَهُ لِلَّذِي عَقَدَ كِتَابَتَهُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَقُلْ بِقَوْلِهِ فِي قِسْمَةِ الْمُكَاتَبِ، قَالَ مِنْ قَبْلُ: إِنَّ الْقَسْمَ بَيْعٌ، وَبَيْعُ الْمُكَاتَبِ لَا يَجُوزُ..ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ایک آدمی فوت ہو گیا، اس نے دو بیٹے اور ایک مکاتب کو چھوڑا۔ پھر مکاتب دونوں میں سے ایک کے حصے میں آیا، اس نے اپنی کتابت ادا کی۔ پھر مکاتب فوت ہو گیا، اس کا وارث کون ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: وہ دونوں اس کے وارث ہیں، اس کی ولاء اس کی طرف لوٹے گی جس نے اس سے کتابت کی تھی۔ میں نے اسے اسی پر لوٹا دیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے مکاتبت کی۔ پھر مالک فوت ہو گیا، پھر مکاتب نے اپنی کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کی تو ولاء اس کی ہو گی جس نے کتابت کی بنیاد رکھی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مکاتب کی تقسیم ہونی چاہیے کیونکہ تقسیم تو بیع ہے جبکہ مکاتب کی بیع درست نہیں ہے۔