حدیث نمبر: 21746
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ طَاوُسٍ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ الرَّجُلَ ثُمَّ يَمُوتُ فَتَرِثُ ابْنَتُهُ ذَلِكَ الْمُكَاتَبَ فَيؤَدِّي كِتَابَتَهُ ثُمَّ يُعْتَقُ، ثُمَّ يَمُوتُ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " وَلَاؤُهُ لَهَا "، وَيَقُولُ: " مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُخَالِفَ عَنْ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ "، وَيَعْجَبُ مِنْ قَوْلِهِمْ: لَيْسَ لَهَا وَلَاءٌ..
حافظ ثناء اللہ

ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن طاؤس رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ کے والد (طاؤس رحمہ اللہ) کیا فرماتے ہیں کہ جب آدمی غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے، اس مکاتبت کی بچی وارث ہو گی، وہ اپنی کتابت اس کو ادا کرے گا، پھر وہ آزاد کیا جائے گا، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے، تو وہ فرماتے ہیں کہ ولاء اس بچی کی ہو گی۔ میرا گمان ہے کہ کوئی بھی اس کی مخالفت نہ کرے گا اور ان کے قول سے تعجب ہے کہ اس کی ولاء نہ ہو گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21746
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»