السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: ميراث المكاتب وولائه باب: مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 21748
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ وَلَهُ عَبْدٌ مُكَاتَبٌ وَلِلْمُتَوَفَّى بَنُونَ وَبَنَاتٌ؟ قَالَ: " يَرِثُونَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِهِ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ، وَلَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا كَاتَبْنَ أَوْ أَعْتَقْنَ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن ابی سلیمان رحمہ اللہ، حضرت عطاء رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہو گیا، اس کا مکاتب غلام تھا، فوت ہونے والے کے بیٹے اور بیٹیاں تھیں تو جو کچھ اس (مکاتب) کے ذمہ ہے اس کے وارث عورتیں اور مرد سب ہوں گے، لیکن عورتیں ولاء کی وارث صرف اسی کی ہو سکتی ہیں جس سے انہوں نے خود کتابت کی ہو یا جسے آزاد کیا ہو۔