حدیث نمبر: 21738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " إِذَا رَضِيَ أَهْلُهَا بِالْبَيْعِ وَرَضِيَتِ الْمُكَاتَبَةُ بِالْبَيْعِ فَإِنَّ ذَلِكَ تَرْكٌ لِلْكِتَابَةِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَقَالَ لِي بَعْضُ النَّاسِ: فَمَا مَعْنَى إِبْطَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرْطَ عَائِشَةَ لِأَهْلِ بَرِيرَةَ؟ قُلْتُ: إِنَّ بَيِّنًا، وَاللهُ أَعْلَمُ، فِي الْحَدِيثِ نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَقَالَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: ٥]، وَأَنَّهُ نَسَبَهُمْ إِلَى مَوَالِيهِمْ كَمَا نَسَبَهُمْ إِلَى آبَائِهِمْ، فَكَمَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُحَوَّلُوا عَنْ آبَائِهِمْ، فَكَذَلِكَ لَا يَجُوزُ أَنْ يُحَوَّلُوا عَنْ مَوَالِيهِمُ الَّذِينَ وُلُّوا أَمَانَتَهُمْ، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ} [الأحزاب: ٣٧] وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، النَّسَبُ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ "، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ هَذَا كَانَ مَنِ اشْتَرَطَ خِلَافَ مَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاصِيًا، وَكَانَتْ فِي الْمَعَاصِي حُدُودٌ وَآدَابٌ، فَكَانَ مِنْ أَدَبِ الْعَاصِينَ أَنْ يُعَطَّلَ عَلَيْهِمْ شُرُوطُهُمْ لِيَنْتَكِلُوا عَنْ مِثْلِهِ، أَوْ يَنْتَكِلَ بِهَا غَيْرُهُمْ، وَكَانَ هَذَا مِنْ أَسْنَى الْأَدَبِ. وَرَوَى الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ مَعْنَى هَذَا وَأَبَيْنَ مِنْهُ..
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اس کے گھر والے فروخت کرنے پر راضی ہو گئے اور مکاتبہ فروخت ہونے پر راضی ہو گئی تو مکاتبت ختم۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے بریرہ کے گھر والوں کی شرط کو باطل قرار دیا اس کا کیا معنیٰ؟ فرمایا: زیادہ تو اللہ کے رسول ہی جانتے ہیں لیکن حدیث کا فیصلہ ہے کہ ”ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے“۔ اور فرمایا: ﴿ٱدْعُوهُمْ لِءَابَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور مولیٰ ہیں۔ ان کی نسبت آزاد کرنے والے کی طرف کی جاتی جیسے ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف ہوتی ہے۔ جس طرح باپ سے نسبت پھیرنا جائز نہیں، اس طرح آزاد کرنے والے سے نسبت تبدیل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ جو ان کی اس نعمت کے والی بنے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”اور جس وقت آپ ﷺ نے اس شخص سے کہا کہ آپ اللہ نے اور آپ نے بھی اس پر انعام و احسان کیا تھا۔ اپنی بیوی کو روکے رکھو۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“ اور آپ ﷺ نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ”ولاء ایسا رشتہ ہے جیسا نسب کا رشتہ ہوتا ہے تو نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جاتا۔“ جب آپ ﷺ کو ان کے بارے میں خبر ملی۔ جس نے شرط لگائی اس کے خلاف جو اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے وہ گناہ گار ہے تو اس کی شرط کو باطل ہی قرار دیا جائے گا، تاکہ اس جیسے اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21738
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»