السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21739
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ الرَّازِيَّ، ثنا أَبِي، ثنا حَرْمَلَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ قَالَ لَهَا: " اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ ": مَعْنَاهُ اشْتَرِطِي عَلَيْهِمُ الْوَلَاءَ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ} [الرعد: ٢٥]، يَعْنِي: عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالْجَوَابُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَفِي صِحَّةِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ نَظَرٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ..حافظ ثناء اللہ
حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”تو ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ،“ اس کا معنی ہے کہ تو ان کے خلاف ولاء کی شرط رکھ۔ ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ﴾ ”یہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے“ [سورة محمد: 23]۔