کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ فَقَالَ: " خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "..
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، آپ میری مدد کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اگر تیرے گھر والے پسند کریں تو قیمت میں ادا کر دیتی ہوں اور ولاء میری ہوگی۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر بات کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے، وہ کہنے لگیں: میں نے ان سے بات کی، لیکن وہ نہیں مانے، وہ کہتے ہیں: ولاء ہماری ہوگی۔ نبی ﷺ نے سن کر دریافت فرمایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرید لو اور ولاء کی شرط رکھو، ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں موجود نہ ہو وہ باطل ہے، چاہے وہ سو شرطیں کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی شرائط پورا کرنے کا زیادہ حق دار ہے، اور ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“۔
حدیث نمبر: 21722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَرِيرَةَ، جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ⦗٥٦٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ. أَرْسَلَهُ مَالِكٌ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، وَأَسْنَدَهُ عَنْهُ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ..
حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد طلب کرنے کے لیے آئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تیرے گھر والے پسند کریں تو میں ایک بار ساری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کر دیتی ہوں، تو بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں سے بات کی۔ انہوں نے کہا: اگر ولاء ہمارے لیے ہوگی تو پھر درست ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: عمرہ بنت عبدالرحمن کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے، خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 21723
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو سَبْرَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ، جَاءَتْهَا لِتَسْتَعِينَهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا..
حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد طلب کرنے کے لیے آئیں۔
حدیث نمبر: 21724
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا الْمُزَنِيُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنِ اشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأُعْتِقَهَا، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أُعْتِقَهَا وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ فَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ ". ..
حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے گھر والوں نے شرط لگا دی کہ آزاد کرو، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ فرماتی ہیں: میں نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو۔ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“ پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں؟ جس نے ایسی سو شرطیں بھی لگا دیں، جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہیں۔“
حدیث نمبر: 21725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: حَدِيثُ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَأَحْسِبُهُ غَلَطَ فِي قَوْلِهِ: " وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ "، وَأَحْسِبُ حَدِيثَ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ شَرَطَتْ ذَلِكَ لَهُمْ بِغَيْرِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَرَى ذَلِكَ يَجُوزُ، فَأَعْلَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا إِنْ أَعْتَقَتْهَا فَالْوَلَاءُ لَهَا، وَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ عَنْهَا مَا تَقَدَّمَ مِنْ شَرْطِكِ "، وَلَا أَرَى أَمَرَهَا تَشْتَرِطُ لَهُمْ مَا لَا يَجُوزُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " حَدِيثُ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، فَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مَوْصُولًا..
حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمٰن رحمہا اللہ کی حدیث ہشام کی حدیث سے زیادہ ثابت ہے، کیونکہ اس میں یہ جملہ غلط ہے کہ ”تو ان پر ولاء کی شرط لگا“ اور عمرہ کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے بغیر یہ شرط لگائی، یہ نبی ﷺ نے بھی جان لیا ”اگر وہ آزاد کر دی گئی تو ولاء بھی ان کے لیے ہوگی“۔ جو شرط سے پہلے ہے، اس سے تجھے کوئی چیز نہ روکے اور میرا خیال ہے جو انہوں نے شرط رکھی ہے جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 21726
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٥٦٦⦘ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ لَهَا: إِنْ شَاءَ مَوَالِيكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ عَنْكِ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ، قَالَتْ: فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِمَوَالِيهَا فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا الْوَلَاءَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ..
حافظ ثناء اللہ
عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنی کتابت میں مدد طلب کرنے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالک چاہیں تو ایک ہی مرتبہ پوری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کر دوں۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں سے تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ولاء کی شرط کے ساتھ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خریدو، ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 21727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي كِتَابَتِهَا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
حافظ ثناء اللہ
عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ اپنی کتابت میں مجھ سے مدد طلب کرنے کے لیے آئی۔
حدیث نمبر: 21728
قَالَ: وَحَدَّثَنَا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ..
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، حضرت عمرہ رحمہا اللہ سے ایسے ہی روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 21729
قَالَ: وَحَدَّثَنَا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 21730
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ "، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ..
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے گھر والوں نے کہا کہ ولاء ہمارے نام ہی ہو گی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی چیز تجھے نہ روکے کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 21731
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: أَحْسِبُ حَدِيثَ نَافِعٍ أَثْبَتَهَا كُلِّهَا، لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ، وَأَنَّهُ أَشْبَهُ، وَكَأَنَّ عَائِشَةَ فِي حَدِيثِ نَافِعٍ كَانَتْ شَرَطَتْ لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَأَعْلَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا إِنْ أَعْتَقَتْ فَالْوَلَاءُ لَهَا، فَإِنْ كَانَ هَكَذَا فَلَيْسَ أَنَّهَا شَرَطَتْ لَهُمُ الْوَلَاءَ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَعَلَّ هِشَامًا أَوْ عُرْوَةَ حِينَ سَمِعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ "، رَأَى أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِطَ لَهُمُ الْوَلَاءَ فَلَمْ يَقِفْ مِنْ حِفْظِهِ عَلَى مَا وَقَفَ ابْنُ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ شَوَاهِدُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نافع کی حدیث زیادہ ثابت ہے، کیونکہ یہ مسند ہے، نافع کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی تھی، رسول اللہ ﷺ کے کہنے پر، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے، حالانکہ نبی کریم ﷺ کے کہنے پر ولاء کی شرط نہ رکھی تھی۔ شاید کہ ہشام یا عروہ نے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد ”کوئی چیز تجھے نہ روکے“ سے سمجھ لیا کہ آپ ﷺ نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی ہے۔ اس کے حافظ کا اتنا اعتبار نہیں جتنا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے۔
حدیث نمبر: 21732
مِنْهَا مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، إِمْلَاءً، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ ⦗٥٦٧⦘ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا، اس کے گھر والوں نے انکار کر دیا، لیکن ولاء ان کی ہو تب راضی ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے پاس تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی چیز اس لونڈی کو خریدنے سے رکاوٹ نہ بنے؛ کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 21733
وَمِنْهَا مَا، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ. وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدنے کا ارادہ کیا، اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے پاس اس کا تذکرہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 21734
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، وہ اپنی کتابت میں مدد طلب کر رہی تھیں۔ ابھی انہوں نے کتابت سے کچھ ادا نہ کیا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں تو میں رقم ادا کر دیتی ہوں، لیکن ولاء میری ہو گی تو میں ایسا کرتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں کے سامنے تذکرہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ پر احسان کرنا چاہتی ہیں تو ایسا کر لیں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہو گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے، ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں نہیں ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگرچہ وہ سو شرائط بھی ہوں۔ اللہ کی شرائط پورا کرنے کے اعتبار سے زیادہ حق دار ہیں۔“
حدیث نمبر: 21735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ الْمَتُّوثِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا، الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ⦗٥٦٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خرید لو، ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 21736
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا ثَبَتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، وَقَدْ بَيَّنَّا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ، مَيَّزَهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَوْلُ الْأَسْوَدِ مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا أَصَحُّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ أَيْمَنُ، عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
اسود رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے بریرہ کو خریدا، اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی، میں نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آزاد کرو کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ میں نے اس کو آزاد کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلوایا اور اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دیا، وہ کہنے لگی: اگر وہ مجھے فلاں فلاں چیز دے دے تو میں اس کے پاس نہ رہوں۔ اس نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا اور اس کا خاوند بھی آزاد تھا۔
بخاری کی صحیح روایت عثمان بن ابی شیبہ کی اس قول کے بغیر ہے: «وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا» ”اور اس کا خاوند آزاد تھا“، یہ اسود کا قول ہے۔
بخاری کی صحیح روایت عثمان بن ابی شیبہ کی اس قول کے بغیر ہے: «وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا» ”اور اس کا خاوند آزاد تھا“، یہ اسود کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 21737
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي أَيْمَنُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كُنْتُ غُلَامًا لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، وَإِنَّ عُتْبَةَ مَاتَ، وَوَرِثَنِي بَنُوهُ، وَإِنَّهُمْ بَاعُونِي مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْمَخْزُومِيِّ، فَأَعْتَقَنِي ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَاشْتَرَطُوا وَلَائِي، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا؟ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَكَانَ لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَمَاتَ عُتْبَةُ، فَوَرِثَهُ بَنُوهُ، وَاشْتَرَاهُ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، فَأَعْتَقَهُ، وَاشْتَرَطَ بَنُو عُتْبَةَ الْوَلَاءَ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ فَقَالَتْ: اشْتَرِينِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّ أَهْلِي يَبِيعُونَنِي، فَأَعْتِقِينِي، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، اشْتَرِينِي فَأَعْتِقِينِي، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي لَا يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلَائِي، فَقَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي بِكِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ بَلَغَهُ، فَقَالَ: " مَا شَأْنُ بَرِيرَةَ؟ "، فَأَخْبَرَتْهُ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ مَا قَالَتْ لَهَا، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، وَلْيَشْتَرِطُوا مَا شَاءُوا ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ: " فَدَعِيهِمْ، فَلْيَشْتَرِطُوا مَا ⦗٥٦٩⦘ شَاءُوا "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَعْتَقْتُهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ فَاشْتَرَتْهَا عَائِشَةُ فَأَعْتَقَتْهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ ". . زَادَ خَلَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ: " فَأَنْتَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي عَمْرٍو ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ قُرَيْبَةٌ مِنْ رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَالْعَدَدُ بِالْحِفْظِ أَوْلَى مِنَ الْوَاحِدِ..
حافظ ثناء اللہ
عبدالواحد بن ایمن مکی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! میں عتبہ بن ابی لہب کا غلام ہوں، عتبہ مر گیا۔ اس کے بیٹے میرے وارث ہیں، انہوں نے مجھے عبداللہ بن ابی عمرو مخزومی کے ہاتھوں فروخت کر دیا، اس نے مجھے آزاد کر دیا لیکن انہوں نے میری ولاء کی شرط رکھی۔ میں اب کس کا آزاد کردہ ہوں؟ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں عتبہ بن ابی لہب کا غلام تھا، وہ مر گیا تو اس کی اولاد میری وارث ہوئی تو ابن ابی عمرو رضی اللہ عنہما نے مجھے خرید لیا اور آزاد کر دیا۔ لیکن عتبہ کی اولاد نے ولاء کی شرط رکھی تو اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو آکر بتایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی۔ وہ کہنے لگیں: اے ام المؤمنین! مجھے خرید لیں۔ میرے گھر والے مجھے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے آزاد کر دیں، میں نے کہا: ہاں۔ کہنے لگی: میرے گھر والے ولاء کی شرط لگا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں، آپ ﷺ نے یہ سنا یا آپ ﷺ کو خبر ملی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”بریرہ کی کیا حالت ہے؟“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو خبر دی۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تذکرہ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ بیان کر دیا، جو اس نے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ اس کو خرید لیں اور آزاد کر دیں، وہ جو بھی شرط رکھیں۔“ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ ”آپ ان کو بلائیں وہ شرط رکھیں جو چاہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس کو آزاد کر دیا اور اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خریدا اور اس کو آزاد کر دیا۔ اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے، اگر وہ سو شرطیں بھی لگا لیں۔“ خلاد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ابن ابی عمرو کے غلام ہیں۔
حدیث نمبر: 21738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " إِذَا رَضِيَ أَهْلُهَا بِالْبَيْعِ وَرَضِيَتِ الْمُكَاتَبَةُ بِالْبَيْعِ فَإِنَّ ذَلِكَ تَرْكٌ لِلْكِتَابَةِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَقَالَ لِي بَعْضُ النَّاسِ: فَمَا مَعْنَى إِبْطَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرْطَ عَائِشَةَ لِأَهْلِ بَرِيرَةَ؟ قُلْتُ: إِنَّ بَيِّنًا، وَاللهُ أَعْلَمُ، فِي الْحَدِيثِ نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَقَالَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: ٥]، وَأَنَّهُ نَسَبَهُمْ إِلَى مَوَالِيهِمْ كَمَا نَسَبَهُمْ إِلَى آبَائِهِمْ، فَكَمَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُحَوَّلُوا عَنْ آبَائِهِمْ، فَكَذَلِكَ لَا يَجُوزُ أَنْ يُحَوَّلُوا عَنْ مَوَالِيهِمُ الَّذِينَ وُلُّوا أَمَانَتَهُمْ، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ} [الأحزاب: ٣٧] وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، النَّسَبُ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ "، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ هَذَا كَانَ مَنِ اشْتَرَطَ خِلَافَ مَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاصِيًا، وَكَانَتْ فِي الْمَعَاصِي حُدُودٌ وَآدَابٌ، فَكَانَ مِنْ أَدَبِ الْعَاصِينَ أَنْ يُعَطَّلَ عَلَيْهِمْ شُرُوطُهُمْ لِيَنْتَكِلُوا عَنْ مِثْلِهِ، أَوْ يَنْتَكِلَ بِهَا غَيْرُهُمْ، وَكَانَ هَذَا مِنْ أَسْنَى الْأَدَبِ. وَرَوَى الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ مَعْنَى هَذَا وَأَبَيْنَ مِنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اس کے گھر والے فروخت کرنے پر راضی ہو گئے اور مکاتبہ فروخت ہونے پر راضی ہو گئی تو مکاتبت ختم۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے بریرہ کے گھر والوں کی شرط کو باطل قرار دیا اس کا کیا معنیٰ؟ فرمایا: زیادہ تو اللہ کے رسول ہی جانتے ہیں لیکن حدیث کا فیصلہ ہے کہ ”ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے“۔ اور فرمایا: ﴿ٱدْعُوهُمْ لِءَابَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور مولیٰ ہیں۔ ان کی نسبت آزاد کرنے والے کی طرف کی جاتی جیسے ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف ہوتی ہے۔ جس طرح باپ سے نسبت پھیرنا جائز نہیں، اس طرح آزاد کرنے والے سے نسبت تبدیل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ جو ان کی اس نعمت کے والی بنے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”اور جس وقت آپ ﷺ نے اس شخص سے کہا کہ آپ اللہ نے اور آپ نے بھی اس پر انعام و احسان کیا تھا۔ اپنی بیوی کو روکے رکھو۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“ اور آپ ﷺ نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ”ولاء ایسا رشتہ ہے جیسا نسب کا رشتہ ہوتا ہے تو نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جاتا۔“ جب آپ ﷺ کو ان کے بارے میں خبر ملی۔ جس نے شرط لگائی اس کے خلاف جو اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے وہ گناہ گار ہے تو اس کی شرط کو باطل ہی قرار دیا جائے گا، تاکہ اس جیسے اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“ اور آپ ﷺ نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ”ولاء ایسا رشتہ ہے جیسا نسب کا رشتہ ہوتا ہے تو نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جاتا۔“ جب آپ ﷺ کو ان کے بارے میں خبر ملی۔ جس نے شرط لگائی اس کے خلاف جو اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے وہ گناہ گار ہے تو اس کی شرط کو باطل ہی قرار دیا جائے گا، تاکہ اس جیسے اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں۔
حدیث نمبر: 21739
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ الرَّازِيَّ، ثنا أَبِي، ثنا حَرْمَلَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ قَالَ لَهَا: " اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ ": مَعْنَاهُ اشْتَرِطِي عَلَيْهِمُ الْوَلَاءَ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ} [الرعد: ٢٥]، يَعْنِي: عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالْجَوَابُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَفِي صِحَّةِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ نَظَرٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”تو ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ،“ اس کا معنی ہے کہ تو ان کے خلاف ولاء کی شرط رکھ۔ ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ﴾ ”یہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے“ [سورة محمد: 23]۔
حدیث نمبر: 21740
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ يَكْرَهُ بَيْعَ الْمُكَاتَبِ..
حافظ ثناء اللہ
عطاء، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مکاتبہ کی بیع کو ناپسند فرماتے تھے۔