حدیث نمبر: 21737
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي أَيْمَنُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كُنْتُ غُلَامًا لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، وَإِنَّ عُتْبَةَ مَاتَ، وَوَرِثَنِي بَنُوهُ، وَإِنَّهُمْ بَاعُونِي مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْمَخْزُومِيِّ، فَأَعْتَقَنِي ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَاشْتَرَطُوا وَلَائِي، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا؟ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَكَانَ لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَمَاتَ عُتْبَةُ، فَوَرِثَهُ بَنُوهُ، وَاشْتَرَاهُ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، فَأَعْتَقَهُ، وَاشْتَرَطَ بَنُو عُتْبَةَ الْوَلَاءَ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ فَقَالَتْ: اشْتَرِينِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّ أَهْلِي يَبِيعُونَنِي، فَأَعْتِقِينِي، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، اشْتَرِينِي فَأَعْتِقِينِي، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي لَا يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلَائِي، فَقَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي بِكِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ بَلَغَهُ، فَقَالَ: " مَا شَأْنُ بَرِيرَةَ؟ "، فَأَخْبَرَتْهُ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ مَا قَالَتْ لَهَا، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، وَلْيَشْتَرِطُوا مَا شَاءُوا ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ: " فَدَعِيهِمْ، فَلْيَشْتَرِطُوا مَا ⦗٥٦٩⦘ شَاءُوا "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَعْتَقْتُهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نُعَيْمٍ فَاشْتَرَتْهَا عَائِشَةُ فَأَعْتَقَتْهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ ". . زَادَ خَلَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ: " فَأَنْتَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي عَمْرٍو ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ قُرَيْبَةٌ مِنْ رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَالْعَدَدُ بِالْحِفْظِ أَوْلَى مِنَ الْوَاحِدِ..
حافظ ثناء اللہ

عبدالواحد بن ایمن مکی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! میں عتبہ بن ابی لہب کا غلام ہوں، عتبہ مر گیا۔ اس کے بیٹے میرے وارث ہیں، انہوں نے مجھے عبداللہ بن ابی عمرو مخزومی کے ہاتھوں فروخت کر دیا، اس نے مجھے آزاد کر دیا لیکن انہوں نے میری ولاء کی شرط رکھی۔ میں اب کس کا آزاد کردہ ہوں؟ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں عتبہ بن ابی لہب کا غلام تھا، وہ مر گیا تو اس کی اولاد میری وارث ہوئی تو ابن ابی عمرو رضی اللہ عنہما نے مجھے خرید لیا اور آزاد کر دیا۔ لیکن عتبہ کی اولاد نے ولاء کی شرط رکھی تو اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو آکر بتایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی۔ وہ کہنے لگیں: اے ام المؤمنین! مجھے خرید لیں۔ میرے گھر والے مجھے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے آزاد کر دیں، میں نے کہا: ہاں۔ کہنے لگی: میرے گھر والے ولاء کی شرط لگا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں، آپ ﷺ نے یہ سنا یا آپ ﷺ کو خبر ملی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”بریرہ کی کیا حالت ہے؟“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو خبر دی۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تذکرہ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ بیان کر دیا، جو اس نے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ اس کو خرید لیں اور آزاد کر دیں، وہ جو بھی شرط رکھیں۔“ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ ”آپ ان کو بلائیں وہ شرط رکھیں جو چاہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس کو آزاد کر دیا اور اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خریدا اور اس کو آزاد کر دیا۔ اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے، اگر وہ سو شرطیں بھی لگا لیں۔“ خلاد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ابن ابی عمرو کے غلام ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21737
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»