السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا ثَبَتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، وَقَدْ بَيَّنَّا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ، مَيَّزَهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَوْلُ الْأَسْوَدِ مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا أَصَحُّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ أَيْمَنُ، عَنْ عَائِشَةَ.اسود رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے بریرہ کو خریدا، اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی، میں نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آزاد کرو کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ میں نے اس کو آزاد کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلوایا اور اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دیا، وہ کہنے لگی: اگر وہ مجھے فلاں فلاں چیز دے دے تو میں اس کے پاس نہ رہوں۔ اس نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا اور اس کا خاوند بھی آزاد تھا۔
بخاری کی صحیح روایت عثمان بن ابی شیبہ کی اس قول کے بغیر ہے: «وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا» ”اور اس کا خاوند آزاد تھا“، یہ اسود کا قول ہے۔