السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21733
وَمِنْهَا مَا، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ. وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.حافظ ثناء اللہ
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدنے کا ارادہ کیا، اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے پاس اس کا تذکرہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“