السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا..سیدنا عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، وہ اپنی کتابت میں مدد طلب کر رہی تھیں۔ ابھی انہوں نے کتابت سے کچھ ادا نہ کیا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں تو میں رقم ادا کر دیتی ہوں، لیکن ولاء میری ہو گی تو میں ایسا کرتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں کے سامنے تذکرہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ پر احسان کرنا چاہتی ہیں تو ایسا کر لیں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہو گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے، ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں نہیں ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگرچہ وہ سو شرائط بھی ہوں۔ اللہ کی شرائط پورا کرنے کے اعتبار سے زیادہ حق دار ہیں۔“