السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21732
مِنْهَا مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، إِمْلَاءً، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ ⦗٥٦٧⦘ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا، اس کے گھر والوں نے انکار کر دیا، لیکن ولاء ان کی ہو تب راضی ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے پاس تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی چیز اس لونڈی کو خریدنے سے رکاوٹ نہ بنے؛ کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“