السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21731
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: أَحْسِبُ حَدِيثَ نَافِعٍ أَثْبَتَهَا كُلِّهَا، لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ، وَأَنَّهُ أَشْبَهُ، وَكَأَنَّ عَائِشَةَ فِي حَدِيثِ نَافِعٍ كَانَتْ شَرَطَتْ لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَأَعْلَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا إِنْ أَعْتَقَتْ فَالْوَلَاءُ لَهَا، فَإِنْ كَانَ هَكَذَا فَلَيْسَ أَنَّهَا شَرَطَتْ لَهُمُ الْوَلَاءَ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَعَلَّ هِشَامًا أَوْ عُرْوَةَ حِينَ سَمِعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ "، رَأَى أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِطَ لَهُمُ الْوَلَاءَ فَلَمْ يَقِفْ مِنْ حِفْظِهِ عَلَى مَا وَقَفَ ابْنُ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ شَوَاهِدُ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نافع کی حدیث زیادہ ثابت ہے، کیونکہ یہ مسند ہے، نافع کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی تھی، رسول اللہ ﷺ کے کہنے پر، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے، حالانکہ نبی کریم ﷺ کے کہنے پر ولاء کی شرط نہ رکھی تھی۔ شاید کہ ہشام یا عروہ نے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد ”کوئی چیز تجھے نہ روکے“ سے سمجھ لیا کہ آپ ﷺ نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی ہے۔ اس کے حافظ کا اتنا اعتبار نہیں جتنا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے۔