السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: أَحْسِبُ حَدِيثَ نَافِعٍ أَثْبَتَهَا كُلِّهَا، لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ، وَأَنَّهُ أَشْبَهُ، وَكَأَنَّ عَائِشَةَ فِي حَدِيثِ نَافِعٍ كَانَتْ شَرَطَتْ لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَأَعْلَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا إِنْ أَعْتَقَتْ فَالْوَلَاءُ لَهَا، فَإِنْ كَانَ هَكَذَا فَلَيْسَ أَنَّهَا شَرَطَتْ لَهُمُ الْوَلَاءَ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَعَلَّ هِشَامًا أَوْ عُرْوَةَ حِينَ سَمِعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ "، رَأَى أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِطَ لَهُمُ الْوَلَاءَ فَلَمْ يَقِفْ مِنْ حِفْظِهِ عَلَى مَا وَقَفَ ابْنُ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ شَوَاهِدُ ".امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں نافع کی حدیث ان سب میں زیادہ ثابت ہے، کیونکہ یہ مسند ہے اور زیادہ قرین قیاس ہے۔ گویا نافع کی حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اگر وہ آزاد کریں گی تو ولاء انہی کی ہوگی۔ اگر ایسا ہے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے حکم سے ان کے لیے ولاء کی شرط نہیں رکھی تھی۔ شاید کہ ہشام یا عروہ نے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد ”کوئی چیز تجھے نہ روکے“ سے سمجھ لیا کہ آپ ﷺ نے انہیں ان کے لیے ولاء کی شرط رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے حافظے نے وہ بات محفوظ نہیں رکھی جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے محفوظ رکھی۔ واللہ اعلم۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے معنی کے شواہد موجود ہیں۔