❮
❯
حدیث نمبر: 21725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: حَدِيثُ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَأَحْسِبُهُ غَلَطَ فِي قَوْلِهِ: " وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ "، وَأَحْسِبُ حَدِيثَ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ شَرَطَتْ ذَلِكَ لَهُمْ بِغَيْرِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَرَى ذَلِكَ يَجُوزُ، فَأَعْلَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا إِنْ أَعْتَقَتْهَا فَالْوَلَاءُ لَهَا، وَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ عَنْهَا مَا تَقَدَّمَ مِنْ شَرْطِكِ "، وَلَا أَرَى أَمَرَهَا تَشْتَرِطُ لَهُمْ مَا لَا يَجُوزُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " حَدِيثُ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، فَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مَوْصُولًا..
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ کی عمرہ سے، ان کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث ہشام کی حدیث سے زیادہ ثابت ہے، اور میرا خیال ہے کہ ان سے اس جملے میں غلطی ہوئی ہے کہ ”ان کے لیے ولاء کی شرط لگا لو“۔ اور عمرہ کی حدیث سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے حکم کے بغیر ان کے لیے یہ شرط لگائی تھی اور وہ اسے جائز سمجھتی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اگر وہ اسے آزاد کریں گی تو ولاء انہی کی ہوگی، اور فرمایا: ”تمہاری پہلے کی ہوئی شرط تمہیں اس سے نہ روکے“۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ آپ ﷺ نے انہیں ان کے لیے ایسی شرط لگانے کا حکم دیا ہو جو جائز نہیں۔
عمرہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث ثابت ہے، ایک جماعت نے اسے یحییٰ بن سعید سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21725
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»