السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: حَدِيثُ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَأَحْسِبُهُ غَلَطَ فِي قَوْلِهِ: " وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ "، وَأَحْسِبُ حَدِيثَ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ شَرَطَتْ ذَلِكَ لَهُمْ بِغَيْرِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَرَى ذَلِكَ يَجُوزُ، فَأَعْلَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا إِنْ أَعْتَقَتْهَا فَالْوَلَاءُ لَهَا، وَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ عَنْهَا مَا تَقَدَّمَ مِنْ شَرْطِكِ "، وَلَا أَرَى أَمَرَهَا تَشْتَرِطُ لَهُمْ مَا لَا يَجُوزُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " حَدِيثُ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، فَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مَوْصُولًا..حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمٰن رحمہا اللہ کی حدیث ہشام کی حدیث سے زیادہ ثابت ہے، کیونکہ اس میں یہ جملہ غلط ہے کہ ”تو ان پر ولاء کی شرط لگا“ اور عمرہ کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے بغیر یہ شرط لگائی، یہ نبی ﷺ نے بھی جان لیا ”اگر وہ آزاد کر دی گئی تو ولاء بھی ان کے لیے ہوگی“۔ جو شرط سے پہلے ہے، اس سے تجھے کوئی چیز نہ روکے اور میرا خیال ہے جو انہوں نے شرط رکھی ہے جائز نہیں۔