السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21724
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا الْمُزَنِيُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنِ اشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأُعْتِقَهَا، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أُعْتِقَهَا وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ فَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ ". ..حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے گھر والوں نے شرط لگا دی کہ آزاد کرو، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ فرماتی ہیں: میں نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو۔ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“ پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں؟ جس نے ایسی سو شرطیں بھی لگا دیں، جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہیں۔“