السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21726
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٥٦٦⦘ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ لَهَا: إِنْ شَاءَ مَوَالِيكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ عَنْكِ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ، قَالَتْ: فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِمَوَالِيهَا فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا الْوَلَاءَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ..حافظ ثناء اللہ
عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنی کتابت میں مدد طلب کرنے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالک چاہیں تو ایک ہی مرتبہ پوری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کر دوں۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں سے تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ولاء کی شرط کے ساتھ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خریدو، ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“