السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب عبد ما بقي عليه درهم باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُرْوَى أَنَّ مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ رَقِيقٌ..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”روایت کیا جاتا ہے کہ جس شخص نے اپنے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی، پھر اس (غلام) نے دس اوقیہ کے سوا سب ادا کر دیے، تو وہ (پھر بھی) غلام ہی ہے...“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا هَمَّامٌ، عَنِ الْعَلَاءِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُكَاتَبٍ كُوتِبَ عَلَى أَلْفِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا مُكَاتَبٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشَرَةَ دَنَانِيرَ، فَهُوَ عَبْدٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ: " أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ ". وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ..عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے ایک ہزار اوقیہ پر مکاتبت کی گئی، اس نے دس اوقیوں کے علاوہ سب ادا کر دیے تو وہ غلام ہی ہے اور جس سے ایک سو دینار پر مکاتبت کی گئی، اس نے تمام ادا کر دیے لیکن دس دینار باقی تھے، وہ غلام ہی ہے۔“
(ب) عمرو بن عاصم اور ابو ولید کی روایت میں ہے کہ ”جس غلام سے سو دینار کے عوض مکاتبت کی گئی، اس نے تمام ادا کر دیے، صرف دس دینار اس کے ذمہ تھے تو وہ غلام ہی رہے گا اور جس غلام سے سو اوقیہ کے عوض مکاتبت کی گئی، صرف دس اوقیے باقی رہ گئے تو وہ غلام ہی رہے گا۔“