السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : ما جاء في ولد المدبرة من غير سيدها بعد تدبيرها باب: مدبرہ لونڈی کے اس بچے کا بیان جو تدبیر (آقا کی موت کے بعد آزادی کے وعدے) کے بعد آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21593
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فَاخْتُصِمَ إِلَيْهِ فِي أَوْلَادِ الْمُدَبَّرَةِ، فَاسْتَشَارَ مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يُبَاعُ أَوْلَادُهَا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّخْلِ، فَيَأْكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَقَالَ آخَرُ قَوْلًا نَقَضًا لِلَّذِي قَالَ ⦗٥٣٣⦘ صَاحِبُهُ، قَالَ: الْمُدَبَّرَةُ يَكُونُ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا، قَدْ يَهْدِي الرَّجُلُ الْبَدَنَةَ فَتُنْتَجُ فَيَنْحَرُ وَلَدَهَا مَعَهَا، قَالَ عِكْرِمَةُ: " فَقَامَ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِمْ بِشَيْءٍ ". وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا الْقَوْلِ..حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا تو ان کے پاس مدبرہ کی اولاد کا جھگڑا لایا گیا، تو انہوں نے اپنے اردگرد والوں سے مشورہ کیا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کی اولاد فروخت کی جائے گی، کیونکہ آدمی کھجور صدقہ کرتا ہے لیکن اس کا پھل کھاتا ہے، اور دوسرے نے اس کی بات کاٹی، کہنے لگا: مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ میں ہے، کبھی کبھی آدمی قربانی کرتا ہے، وہ جننے والی ہوتی ہے تو اس کے بچے بھی ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ کھڑے ہوئے اور کوئی فیصلہ نہ کیا۔