کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مدبرہ لونڈی کے اس بچے کا بیان جو تدبیر (آقا کی موت کے بعد آزادی کے وعدے) کے بعد آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21583
ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فِيهِمْ قَوْلَيْنِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّهُمْ بِمَنْزِلَتِهَا يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا، وَيُرَقُّونَ بِرِقِّهَا "، قَالَ: وَقَدْ قَالَ هَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے ان (کی اولاد) کے بارے میں دو قول ذکر کیے ہیں: ”ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسی (اپنی ماں) کے درجے میں ہیں، اس کے آزاد ہونے سے آزاد ہوں گے اور اس کے غلام رہنے سے غلام رہیں گے۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور یہ بات بعض اہل علم نے بھی کہی ہے...“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور یہ بات بعض اہل علم نے بھی کہی ہے...“
حدیث نمبر: 21583
أَخْبَرَنَا أَبُوحَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ بَطْنٌ مِنْ بُطُونِ جُهَيْنَةَ قَالَ: أَنْكَحَ سَيِّدُ جَدَّتِي عَبْدًا لَهُ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا عَنْ دُبُرٍ وَقَدْ وَلَدَتْ أَوْلَادًا بَعْدَ عِتْقِهَا عَنْ دُبُرٍ، ثُمَّ تُوُفِّيَ سَيِّدُهَا فَخَاصَمَتْ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى أَنَّ مَا وَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ تُدَبَّرَ عَبِيدٌ، وَمَا وَلَدَتْ بَعْدَ التَّدْبِيرِ يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابونضر فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن یعقوب حرقہ قبیلہ جہینہ کے غلام تھے، وہ فرماتے ہیں کہ میری دادی کے سردار نے ایک غلام کا نکاح کر دیا اور بعد میں اس کو مدبر کر دیا، آزادی کے بعد اس کے ہاں اولاد ہوئی، پھر اس کا سردار فوت ہو گیا، تو جھگڑا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ جو مدبر ہونے سے پہلے کی اولاد ہے وہ غلام ہے اور جو تدبیر کے بعد کی اولاد ہے وہ آزاد ہے۔
حدیث نمبر: 21584
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ بِمَنْزِلَتِهَا، يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا، وَيُرَقُّونَ بِرِقِّهَا. ..
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتے تھے کہ مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کی جگہ ہے، اولاد اپنی ماں کی آزادی کی وجہ سے آزاد اور غلامی کی وجہ سے غلام رہے گی۔
حدیث نمبر: 21585
رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " الْمُدَبَّرَةُ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا إِذَا وَلَدَتْ، وَهِيَ مُدَبَّرَةٌ ". أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان ثوری رحمہ اللہ، حضرت عبیداللہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ پر ہے، جب اس نے جنم دیا وہ مدبرہ تھی۔
حدیث نمبر: 21586
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، ثنا زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " مَا أَرَى أَوْلَادَ الْمُدَبَّرَةِ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرماتے تھے: میرا خیال ہے کہ مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ میں ہے۔
حدیث نمبر: 21587
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، أنبأ زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا: " وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء، طاؤس، مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ یہ سب کہتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد اس کی ماں کے مرتبہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 21588
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، أنبأ زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَزِّيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي الْمُدَبَّرَةِ وَأُمِّ الْوَلَدِ: " أَوْلَادُهُمَا بِمَنْزِلَتِهِمَا ". وَرُوِّينَاهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّهْرِيِّ وَالنَّخَعِيِّ..
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن ابی ہند رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مدبرہ اور ام الولد، ان دونوں کی اولاد ان کے مرتبہ میں ہے۔
حدیث نمبر: 21589
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: " إِذَا دَبَّرَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَطَأَهَا، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا، وَلَا يَهَبَهَا، وَوَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی لونڈی کو مدبر کرتا ہے، اگر اس سے وطی (یعنی مجامعت) کرتا ہے تو اس کو فروخت، ہبہ نہ کرے اور اس کی اولاد اس کے مرتبہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 21590
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، وَأَبَا سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: " وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمْ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْقَوْلُ الثَّانِي: أَنَّهُمْ مَمْلُوكُونَ، قَالَ: وَقَدْ قَالَ هَذَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ..
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہما اللہ دونوں کہتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ میں ہے (یعنی آزادی اور غلامی کے مسئلہ میں)۔
حدیث نمبر: 21591
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: " أَوْلَادُ الْمُدَبَّرَةِ مَمْلُوكُونَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَهُ غَيْرُ أَبِي الشَّعْثَاءِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ..
حافظ ثناء اللہ
ابوالشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد غلام ہی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 21592
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُدَبَّرَةِ: " وَلَدُهَا عَبِيدٌ، كَحَائِطِكَ الَّذِي تَصَدَّقْتَ بِهِ إِذَا مُتَّ، لَكَ ثَمَرُهُ مَا عِشْتَ ". وَكَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ: " وَكَإِبِلِكَ تَصَدَّقْتَ بِهَا إِذَا مُتَّ، فَلَكَ وَلَدُهَا وَلَبَنُهَا مَا عِشْتَ ". وَرُوِّينَاهُ، عَنْ مَكْحُولٍ..
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو شعثاء رحمہ اللہ مدبرہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی اولاد غلام ہے، اس باغ کی مانند جو آپ نے مرنے کے بعد صدقہ کر دیا، جب تک زندہ رہو تو اس کا پھل ملے گا اور عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے آپ اونٹ اپنے مرنے کے بعد صدقہ کرتے ہیں، اپنی زندگی میں اس کے بچے اور دودھ آپ حاصل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 21593
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فَاخْتُصِمَ إِلَيْهِ فِي أَوْلَادِ الْمُدَبَّرَةِ، فَاسْتَشَارَ مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يُبَاعُ أَوْلَادُهَا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّخْلِ، فَيَأْكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَقَالَ آخَرُ قَوْلًا نَقَضًا لِلَّذِي قَالَ ⦗٥٣٣⦘ صَاحِبُهُ، قَالَ: الْمُدَبَّرَةُ يَكُونُ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا، قَدْ يَهْدِي الرَّجُلُ الْبَدَنَةَ فَتُنْتَجُ فَيَنْحَرُ وَلَدَهَا مَعَهَا، قَالَ عِكْرِمَةُ: " فَقَامَ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِمْ بِشَيْءٍ ". وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا الْقَوْلِ..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا تو ان کے پاس مدبرہ کی اولاد کا جھگڑا لایا گیا، تو انہوں نے اپنے اردگرد والوں سے مشورہ کیا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کی اولاد فروخت کی جائے گی، کیونکہ آدمی کھجور صدقہ کرتا ہے لیکن اس کا پھل کھاتا ہے، اور دوسرے نے اس کی بات کاٹی، کہنے لگا: مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ میں ہے، کبھی کبھی آدمی قربانی کرتا ہے، وہ جننے والی ہوتی ہے تو اس کے بچے بھی ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ کھڑے ہوئے اور کوئی فیصلہ نہ کیا۔
حدیث نمبر: 21594
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ابْنَةُ عَمٍّ لِي أَعْتَقَتْ جَارِيَتَهَا عَنْ دُبُرٍ، وَلَا مَالَ لَهَا غَيْرُهَا، قَالَ: " لِتَأْخُذْ مِنْ رَحِمِهَا ". زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: " مَا دَامَتْ حَيَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے چچا کی بیٹی نے اپنی مدبرہ لونڈی کو آزاد کر دیا، اس کے پاس دوسرا کوئی مال نہیں تھا۔ فرمایا: وہ اس کے رحم سے حاصل کرے جب تک وہ زندہ ہے۔
حدیث نمبر: 21595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ فِي أَوْلَادِ الْمُدَبَّرَةِ: " إِذَا مَاتَ السَّيِّدُ فَلَا نَرَاهُمْ إِلَّا أَحْرَارًا "، قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ: أَوْلَادُ الْمُدَبَّرَةِ عَبِيدٌ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ حُبْلَى يَوْمَ دُبِّرَتْ. قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ أَصْحَابُنَا: فَهَذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ جَعَلَ وَلَدَهَا مِيرَاثًا، وَعَلَّقَ الْقَوْلَ فِيهِ جَابِرٌ، وَصَرَّحَ بِذَلِكَ عَطَاءٌ، وَجَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو الشَّعْثَاءِ..
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ مدبرہ کی اولاد کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ سید کی وفات کے بعد وہ آزاد ہیں۔ (ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد غلام ہے، لیکن جس دن اس کو مدبرہ بنایا گیا اس دن وہ حاملہ ہو۔