حدیث نمبر: 2156
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْبَصْرِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ثنا أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيِّبِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَلْحَةَ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ: " صَلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الظُّهْرِ " قَالَ: فَمَرَّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ عُرْوَةُ: أَرْسِلُوا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَلُوهُ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ غُلَامًا فَسَأَلَهُ ثُمَّ جَاءَ الرَّسُولُ فَقَالَ: هِيَ صَلَاةُ الظُّهْرِ فَشَكَكْنَا فِي قَوْلِ الْغُلَامِ فَقُمْنَا جَمِيعًا فَذَهَبْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: هِيَ الظُّهْرُ ".
حافظ ثناء اللہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اور ابراہیم بن طلحہ رحمہ اللہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ درمیانی نماز سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما گزرے تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس لوگوں کو بھیجو تاکہ وہ ان سے اس بارے میں پوچھیں۔ چنانچہ ہم نے ایک بچہ آپ کی خدمت میں بھیجا تو اس نے آپ سے پوچھا اور واپس آ کر کہا: وہ ظہر کی نماز (ہی) ہے۔ ہمیں بچے کی بات پر یقین نہ آیا تو ہم سب اٹھ کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چلے گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ظہر کی نماز ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2156
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن جرير في تفسيره 2/569»