السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صلاة الوسطى وقول من قال: هي الظهر باب: صلاۃِ وسطیٰ (درمیانی نماز) اور اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: ”یہ ظہر کی نماز ہے“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْبَصْرِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ثنا أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيِّبِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَلْحَةَ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ: " صَلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الظُّهْرِ " قَالَ: فَمَرَّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ عُرْوَةُ: أَرْسِلُوا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَلُوهُ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ غُلَامًا فَسَأَلَهُ ثُمَّ جَاءَ الرَّسُولُ فَقَالَ: هِيَ صَلَاةُ الظُّهْرِ فَشَكَكْنَا فِي قَوْلِ الْغُلَامِ فَقُمْنَا جَمِيعًا فَذَهَبْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: هِيَ الظُّهْرُ ".سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اور ابراہیم بن طلحہ رحمہ اللہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ درمیانی نماز سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما گزرے تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس لوگوں کو بھیجو تاکہ وہ ان سے اس بارے میں پوچھیں۔ چنانچہ ہم نے ایک بچہ آپ کی خدمت میں بھیجا تو اس نے آپ سے پوچھا اور واپس آ کر کہا: وہ ظہر کی نماز (ہی) ہے۔ ہمیں بچے کی بات پر یقین نہ آیا تو ہم سب اٹھ کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چلے گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ظہر کی نماز ہے۔