السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في العبد يفر إلى المسلمين، ثم يجيء سيده فيسلم. باب: اس غلام کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان جو مسلمانوں کی طرف بھاگ آئے، پھر اس کا آقا آ کر اسلام لے آئے۔
حدیث نمبر: 21530
قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَاصَرَ حِصْنًا فَأَتَاهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَبِيدِ أَعْتَقَهُ، فَإِذَا أَسْلَمَ مَوْلَاهُ رَدَّ وَلَاءَهُ عَلَيْهِ. . هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَابْنُ لَهِيعَةَ يَنْفَرِدُ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب کسی قلعہ کا محاصرہ کر لیا، آپ ﷺ کے پاس غلام آتے تو آپ ﷺ انہیں آزاد کر دیتے، جب ان کا آقا اسلام قبول کر لیتا تو اس کی طرف ولاء کو واپس کر دیتے۔
(ب) عبداللہ بن مکدم ثقفی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب طائف کے غلام آئے، پھر طائف والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا، انہوں نے غلاموں کو واپسی کا مطالبہ کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں“ اور صرف ولاء ان کو واپس کر دی۔